جب جدید دور کی مصروف زندگی میں ہر طرف ڈیٹوکس ڈرنکس، سپر فوڈز اور مہنگے ہیلتھ سپلیمنٹس کی بھرمار ہو، تب ہمارے دیسی باورچی خانے میں چھپے کچھ سادہ مگر شاندار راز ایسے بھی ہیں جو نسلوں سے ہمارے جسم و روح کی نگہداشت کر رہے ہیں۔
ہاں! ہم بات کر رہے ہیں ان دو خالص، آزمودہ اور فائدہ مند مشروبات کی, زیرہ پانی اور سونف پانی۔
صبح سویرے ان میں سے کسی ایک کا استعمال، نہ صرف نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے بلکہ جسم سے زہریلے مادوں کے اخراج، میٹابولزم کو بڑھانے، اور وزن گھٹانے جیسے کئی فوائد کا ضامن بنتا ہے۔
تو آئیے جانتے ہیں، ان دو میں سے کون سا پانی آپ کی صبح کا بہترین آغاز بن سکتا ہے؟
صبح کی صحت بخش شروعات
جب سورج کی پہلی کرن کھڑکیوں سے جھانکنے لگے، تو جسم اور ذہن کو جگانے کے لیے اپنی زندگی میں ایک ہلکا پھلکا، سادہ مگر مفید مشروب ضرور شامل کریں، جی ہاں، وہی پرانا دیسی نسخہ: سونف یا زیرہ پانی۔
یہ کوئی نیا لائف اسٹائل ٹرینڈ نہیں، بلکہ صدیوں پرانے وہ آزمودہ طریقے ہیں جو نظامِ ہضم، وزن پر کنٹرول اور جسمانی توانائی میں اضافہ کے لیے مشہور ہیں۔
سونف اور زیرہ پانی کا فرق کیا ہے؟
زیرہ پانی (Cumin Water)
رات بھر بھگوئے ہوئے زیرے کو صبح ابال کر یا سادہ پانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ نظامِ ہضم کو فعال کرتا ہے، معدے میں جوسز کا اخراج بڑھاتا ہے، پیٹ کی گیس اور اپھارہ کے لیے بہت مؤثر ہے، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کم کرنے میں مددگار ہے اور بلڈ کلاٹس کے خطرے میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ ہیں نا بڑے کام کی چیز۔ ماہرین کی رائے کے مطابق بزرگ افراد کے لیے زیرا پانی زیادہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔
زیرہ پانی کے فوائد تحقیق سے بھی ثابت ہیں۔ ’کمپلمنٹری تھیراپیز اِن کلینیکل پریکٹس‘ (2018) میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق، زیرے کے باقاعدہ استعمال سے وزن میں کمی، بی ایم آئی میں بہتری، اور کولیسٹرول کی سطح میں واضح کمی دیکھی گئی۔
سونف پانی (Fennel Water)
سونف کو رات بھر بھگو کر صبح استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی خاصیت ہے کہ یہ پانی ٹھنڈک اور سکون فراہم کرتا ہے۔ بھوک کو کم کرتا ہے اور میٹابولزم کو تیز کرتا ہے، جو وزن گھٹانے کے لیے مفید ہے۔ حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین کو اس کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق سونف پانی نرم مزاج اور حساس نظامِ ہضم والوں کے لیے موزوں ہوتا ہے۔
تحقیق کی رو سے بھی سونف کا پانی صحت کے لئے فائدہ مند ہے۔ ’جرنل آف فوڈ بایو کیمسٹری‘ (2020) میں شائع تحقیق کے مطابق، سونف میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور اینٹی مائیکروبیل خصوصیات نہ صرف ہاضمے کو بہتر بناتی ہیں بلکہ بھوک کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
آپ کے لئے کونسا پانی مناسب ہے، آپ کے جسم کی ضرورت کے مطابق آپ انتخاب کریں۔ اگر کولیسٹرول، بلڈ پریشر یا پیٹ کی گیس کا مسئلہ ہے تو زیرہ پانی بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔ اور اگر آپ کو بھوک زیادہ لگتی ہے، پیٹ میں جلن ہوتی ہے یا ذہنی دباؤ زیادہ ہوتا ہے تو سونف پانی زیادہ فائدہ دے سکتا ہے۔
آپ کا جسم خود بتاتا ہے کہ اُسے کس چیز کی ضرورت ہے، بس شرط یہ ہے کہ آپ اُسے سننے کا ہنر سیکھ لیں۔ سونف اور زیرہ دونوں قدرتی خزانے ہیں۔ اپنے طرزِ زندگی اور جسمانی ضروریات کے مطابق کسی ایک کو منتخب کریں اور اپنی صبح کو بنائیں ہلکی پھلکی، خوشگوار اور صحت بخش۔
گو کہ یہ دونوں نسخے کوئی سائڈ افیکٹ نہیں رکھتے لیکن کوئی بھی چیز مستقل اور لمبے عرصے استعمال سے گریز کرنا بہتر ہوگا، اسکے ساتھ ہی وہ افراد جو کسی بیماری میں مبتلا اور دوائیں استعمال کر رہے ہیں یا حساس طبیعت اور نظامِ ہضم رکھتے ہیں تو اپنے معالج کے مشورے سے استعمال کریں-
Comments are closed on this story.