کیا آپ بھی اُن لوگوں میں شامل ہیں جنہیں تازہ دودھ اور کیلے سے تیار کردہ گاڑھا، کریمی ملک شیک بے حد پسند ہے؟ اگر ہاں، تو ذرا رُک کر سوچیے! کیونکہ یہ عام مگر مقبول امتزاج بظاہر تو غذائیت سے بھرپور نظر آتا ہے، مگر جدید طبی تحقیق اور روایتی آیورویدک حکمت کے مطابق یہ ہر ایک کے لیے فائدہ مند نہیں۔
آئیے جانتے ہیں کہ یہ امتزاج آپ کی صحت پر کیا اثر ڈال سکتا ہے۔
صدیوں سے ہم سیکھتے اور سنتے چلے آرہے ہیں کہ دودھ اور کیلا ایک صحت بخش امتزاج ہے جو فٹنس کے شوقین افراد اور کھانے کے دلدادہ لوگوں میں بہت مقبول ہےاور وہ اسے توانائی کا خزانہ سمجھتے ہیں۔
خالص دہی میں پانی ملانا چھاچھ نہیں ہے، وجہ جانیں
صحت کے ماہرین بھی اکثر اس بات کی سفارش کرتے ہیں کہ روزانہ دودھ اور کیلا کھانے سے پٹھوں کی نشونما میں مدد ملتی ہے اور یہ کیلشیم، پوٹاشیم سمیت دیگر اہم غذائی اجزاء کا بہترین ذریعہ ہیں۔ اسی لیے جب صحت بخش مگر ذائقہ دار مشروب کی بات آتی ہے تو کیلے کا شیک سب کی پسندیدہ ترجیح بن جاتا ہے۔
تاہم متعدد تحقیقاتی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ان دونوں اجزاء کو ایک ساتھ کھانے سے ہاضمے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اسے جسمانی نظام پر بوجھ ڈالنے والا سمجھا جاتا ہے۔
ملتانی مٹی: چہرے اور بالوں کی قدرتی خوبصورتی کا راز
ہر غذا کی اپنی منفرد تاثیرہوتی ہے جو ہاضمہ پر مثبت یا منفی اثر ڈالتی ہے۔ جسم میں ہاضمے کے لیے موجود معدے کے جوسز، اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ خوراک کس طرح ہضم ہوتی ہے اور جسم میں کیسے ردعمل پیدا ہوتا ہے۔
آیوروید کے نظریے کے مطابق، دودھ اور کیلے کا ایک ساتھ استعمال ہاضمہ کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ نہ صرف نظامِ ہاضمہ میں سستی پیدا کرتا ہے بلکہ بلغم (میکس) کی زیادتی، سانس کی بیماریوں جیسے نزلہ، زکام اور سائنوس میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
آیوروید اس بات پر زور دیتا ہے کہ پھل اور دودھ کو اکٹھا نہیں کھانا چاہیے، کیونکہ یہ ہضم میں خلل ڈال سکتے ہیں اور جسم میں ٹاکسن پیدا کر سکتے ہیں۔
جسم پر اس کے ممکنہ اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟
دودھ اور کیلا دونوں کی تاثیر ”ٹھنڈی“ ہوتی ہے، لیکن ایک ساتھ کھانے سے ان کا مجموعی اثر معدے پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو نظامِ تنفس کی بیماریوں، جیسے الرجی، دمہ یا سائنوس کی شکایت رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ امتزاج مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
اسی طرح ذیابیطس یا دیگر میٹابولک مسائل کے شکار افراد کو سب سے پہلے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں موجود قدرتی شکر خون میں گلوکوز کی سطح متاثر کر سکتی ہے۔
متبادل یا صحت بخش اختیارات کیا ہو سکتے ہیں؟
اگر آپ اس شیک کو مکمل طور پر چھوڑنا نہیں چاہتے تو کچھ صحت بخش متبادل آزما سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر،
پلانٹ بیسڈ ملک جیسے بادام، ناریل یا اوٹس کا دودھ استعمال کریں۔
کم چکنائی والی مٹھاس جیسے اسٹیویا یا مونک فروٹ ایکسٹریکٹ شامل کریں۔
شیک پینے کا وقت ہلکا ناشتہ کرنے کے بعد رکھیں تاکہ نظامِ ہضم پر بوجھ نہ پڑے۔
اگرچہ دودھ اور کیلے کا شیک بظاہر مزیدار اور توانائی بخش لگتا ہے، لیکن ہر اچھی چیز ہر کسی کے لیے نہیں ہوتی۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی صحت،غذا کے مزاج اور جسمانی ضروریات کو سمجھتے ہوئے انتخاب کریں۔
خاص طور پر اگر آپ بار بار سستی، معدے کی خرابی یا تنفسی مسائل کا شکار رہتے ہیں، تو اپنے غذائی امتزاج پر نظرثانی ضرور کریں۔