دنیا کے کئی حصے آج کل شدید موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے قدرتی آفات کا سامنا کررہے ہیں کہیں سیلاب نے تباہی مچائی ہوئی ہے ، تو کہیں ہر سال آنے والی سخت گرمی کی لہریں لوگوں کی زندگی کو مشکل سے مشکل تر بنا رہی ہیں۔

یہ گرمی کی لہریں نہ صرف ہمیں تھکاتی اور بیمار کرتی ہیں، بلکہ ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ان لہروں سے متاثر ہونے کا اثر صرف وقتی نہیں ہوتا یہ ہمارے جسم کی عمر کے بڑھنے کی رفتار کو بھی تیز کرتی ہیں۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق جرنل نیچر کلائمیٹ چینج میں شائع ہو نے والی نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بار بار گرمی کی لہروں کے سامنا ہونے سے جسمانی بڑھاپے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جس حد تک کوئی فرد زیادہ شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کرتا ہے، اس کا جسم اتنی ہی تیزی سے بوڑھا ہوتا ہے۔

اس بڑی تحقیق میں محققین نے تقریباً 25,000 افراد کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کیا جو تائیوان میں 15 سالوں کے دوران (2008 سے 2022) اکٹھا کیا گیا تھا، جب اس خطے میں کل 30 گرمی کی لہریں آئیں (جنہیں محققین نے ”چند روز تک درجہ حرارت میں اضافہ“ قرار دیا ہے)۔ سائنسدانوں نے دیکھا کہ گرمی کی لہروں میں رہنے والے لوگ اپنی حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کئی طبی ٹیسٹوں کے نتائج کی مدد سے ہر شخص کی حیاتیاتی عمر کا حساب لگایا، جن میں جگر، پھیپھڑے، گردے کی کارکردگی، بلڈ پریشر اور سوزش کی جانچ شامل تھی۔ پھر، انہوں نے شرکاء کے پچھلے دو سالوں میں ان کے پتوں کو دیکھ کر معلوم کیا کہ وہ کس حد تک درجہ حرارت کے زیرِ اثر رہے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ، گرمی کی لہروں میں زیادہ رہنے سے آپ کا جسم اتنی ہی تیزی سے بوڑھا ہوتا ہے جتنا کہ تمباکو نوشی اور شراب پینے سے ہوتا ہے۔ خاص طور پر بڑی عمر کے لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

تحقیق سے پتہ چلا کہ جتنا زیادہ کوئی شخص شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کرتا ہے، اتنی ہی اس کی حیاتیاتی عمر بڑھ جاتی ہے۔ ہر اضافی 1.3 ڈگری سیلسیس کے مجموعی درجہ حرارت سے جسمانی عمر میں تقریباً آٹھ سے بارہ دن کا اضافہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو جسمانی محنت کرتے ہیں یا دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، ان پر یہ اثرات سب سے زیادہ مرتب ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے ماحولیاتی ماہر، کوی گوو نے نیچر کو بتایا، ”اگرچہ یہ اعداد و شمار بظاہر چھوٹے لگ سکتے ہیں، لیکن طویل مدت اور بڑی آبادیوں پر ان کے صحت عامہ پر گہرے اثرات ہو سکتے ہیں۔“

وہ کہتے ہیں کہ گرمی کی لہروں سے جسم پر جو اثر پڑتا ہے، وہ اتنا معمولی نہیں جتنا ہم سوچتے ہیں۔ ایک اور ماہر پال بیگز کہتے ہیں کہ یہ تحقیق ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ہمیں فوری طور پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہوگا ورنہ ہماری صحت مزید خراب ہو سکتی ہے۔

عالمی حقائق

موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہریں زیادہ عام ہو رہی ہیں۔ 2024 دنیا کا سب سے گرم سال تھا، جس نے 2023 کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ کے 247 بڑے شہروں میں سے 88 فیصد میں 1970 کے بعد سے شدید گرم دنوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ماحولیاتی ماڈلز یہ بتاتے ہیں کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ جاری رہے گا اور عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کا اندازہ ہے کہ 2025 سے 2029 کے دوران پانچ سالہ اوسط درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سیلسیس سے زائد اضافہ ہونے کا 70 فیصد امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا جائے گا، شدید گرمی سے نمٹنے کے حل تلاش کرنا اور بھی زیادہ ضروری ہو جائے گا۔

More

Comments
1000 characters