ہم بچپن سے سنتے چلے آئے ہیں کہ پالک کھانے کے بے شمار صحت بخش فوائد ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اسے ایک سپر فوڈ سمجھا جاتا ہے۔
پالک آئرن، کیلشیم، میگنیشیم، فولک ایسڈ، وٹامن کے اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو ہماری صحت کے لیے نہایت مفید ہیں۔ مگر اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پکانے سے پالک کے غذائی اجزاء کم ہو جاتے ہیں؟ آئیے اس کا جواب جانتے ہیں۔
کیا دودھ اور کیلے کا شیک صحت کے لیے مفید ہے ؟ ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق نئی تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ پالک پکانے کے عمل سے کچھ وٹامنز کی مقدار کم ہو سکتی ہے، لیکن دوسری طرف پالک میں موجود فائبر، آئرن اور وٹامن جیسے اجزا برقرار رہتے ہیں اور زیادہ بہتر طریقے سے جذب ہوجاتے ہیں جو دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
پالک میں وٹامن سی اور کئی دوسرے وٹامنز، فولک ایسیڈ شامل ہوتے ہیں جو ابالنے یا پکانے پر پانی میں گھل جاتے ہیں یا حرارت سے خراب ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر وٹامن سی۔ اسی وجہ سے پالک کو یا تو کچا کھانا بہتر ہوتا ہے یا ہلکی بھاپ میں پکانا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ وٹامن محفوظ رہ سکیں۔
پیاز کا رس: کچن سے نکلنے والا بیوٹی سیریم بالی وُڈ کی پسندیدہ بیوٹی ٹپ بن گیا
دلچسپ بات یہ ہے کہ پالک پکانے سے اس میں موجود کچھ اینٹی آکسیڈنٹس جیسے کہ بیٹا کیروٹین، لیوٹین اور زیازنتھین کی جسم میں رسائی آسان ہو جاتی ہے۔ یہ کمپاؤنڈز آنکھوں کی صحت اور جسم میں آکسیڈیٹیو تناؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حرارت پودوں کے خلیوں کی دیواروں کو توڑتی ہے، جس سے یہ غذائی اجزاء جسم میں بہتر جذب ہوتے ہیں۔
کچا پالک آکسیلیٹس سے بھرپور ہوتا ہے، جو کیلشیم اور آئرن کے جذب کو کم کر دیتے ہیں۔ لیکن پکانے سے آکسیلیٹ کی مقدار کم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے یہ معدنیات جسم میں بہتر جذب ہوتی ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو کچھ لحاظ سے پکایا ہوا پالک کچا پالک سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پالک کو اُبالنے کے بجائے ہلکی بھاپ میں پکانے سے زیادہ غذائی اجزاء محفوظ رہتے ہیں اور آکسیلیٹ کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔ اُبالنے کی صورت میں بہت سے وٹامنز پانی میں چلے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے غذائیت کا نقصان ہوتا ہے۔ اس لیے ہلکی بھاپ یا تیز آنچ پر ہلکا سا تلنا بہتر انتخاب ہے۔
پالک کے دیگر فوائد اور استعمال
پالک کھانے کے بہت سے فائدے ہیں اور یہ جسم کے لیے بہت مفید سبزی ہے۔ امریکی محکمہ زراعت (USDA) کے مطابق ایک کپ پالک میں تقریباً 131 ملی گرام میگنیشیم پایا جاتا ہے۔
پالک میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اس کا گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ کاربوہائیڈریٹس کے جذب کو سست کرتا ہے اور خون میں شوگر کی اچانک بڑھوتری کو روکتا ہے۔ میگنیشیم کی موجودگی انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتی ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح قابو میں رہتی ہے۔
پالک کو مختلف طریقوں سے کھایا جا سکتا ہے، جیسے اسے سموذیز میں ڈال کر پی سکتے ہیں یا سالن میں شامل کر کے پکایا جا سکتا ہے۔ آپ پالک کی پیوری بنا کر آٹے میں ملا کر پراٹھا یا روٹی بھی بنا سکتے ہیں، جو نہایت لذیذ اور صحت بخش ہوتا ہے۔
پالک کی اس غذائیت بخش خصوصیات کی بدولت اسے روزمرہ کی خوراک میں شامل کرنا بہت مفید ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو صحت مند طرز زندگی کو اپنانا چاہتے ہیں۔
پالک پکانے سے کچھ حساس وٹامنز کا نقصان ضرور ہوتا ہے، لیکن اینٹی آکسیڈنٹس اور معدنیات کی بہتر دستیابی کے باعث یہ غذائی لحاظ سے اور بھی مفید ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، پالک کو ہلکی بھاپ یا تل کر کھانا ایک بہترین طریقہ ہے جس سے آپ زیادہ سے زیادہ غذائیت حاصل کر سکتے ہیں۔