بالی وُڈ فلم ’دھُرندھر‘ کا ٹریلر ریلیز ہوتے ہی پاکستان میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے، جبکہ چودھری اسلم شہید کی اہلیہ نے اسے گمراہ کن قرار دیا۔
بالی وُڈ کی نئی فلم ’دھُرندھر‘ کا ٹریلر 18 نومبر کو ریلیز ہوا اورجس پر پاکستان میں شدید تنقید کی جارہی ہے۔ فلم میں رنویر سنگھ، اکشے کھنہ اور سنجے دت مرکزی کردار نبھا رہے ہیں، جنہیں پاکستانی شخصیات پر مبنی کرداروں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
ایک سے بڑھ کر ایک بڑی فلم، کیا ٹولی وُڈ نے بولی وُڈ کی جگہ لے لی؟
ٹر یلر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد پاکستانی صارفین نے اعتراضات اٹھائے اور اسے ”غیر ضروری تنازع“ پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔ بعض حلقوں نے کہا کہ فلم حقیقی واقعات کو اس انداز سے پیش کر رہی ہے جو شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔
حالیہ بیان میں چودھری اسلم شہید کی اہلیہ نے بھی فلم پر برہمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں رحمان ڈکیت کو جس طرح نمایاں کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا، ’ٹریلر میں لیاری میں جَلسہ دکھایا گیا ہے، جہاں بینظیر بھٹو کی تصویر بھی نظر آ رہی ہے اور رحمان ڈکیت عوام سے خطاب کر رہا ہے۔ یہ سب کیا دکھانا چاہتے ہیں؟ رحمان ڈکیت کون تھا؟ وہ صرف لیاری کے ایک محدود علاقے تک اثر و رسوخ رکھنے والا چھوٹا موٹا مجرم تھا۔‘

کیا ملائکہ اروڑا نے نئی محبت پالی؟
انہوں نے مزید کہا کہ،’اگر کسی کو بڑے پیمانے پر دکھایا جانا چاہیے تھا تو وہ چودھری اسلم تھے، جنہوں نے پورے کراچی میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں کیں اور فرض کی خاطر اپنی جان نچھاور کردی۔‘

ان کے بقول، رحمان ڈکیت نہ کوئی بڑا ڈان تھا، نہ عوامی شخصیت۔ اس کی سرگرمیاں مخصوص علاقوں تک محدود تھیں، جہاں وہ کاروباری افراد سے بھتہ لیتا اور منشیات کے دھندے میں ملوث تھا۔
چودھری اسلم کی اہلیہ نے مطالبہ کیا کہ بلاول بھٹو زرداری اور حکومتِ سندھ کو فلم پر اپنا موقف دینا چاہیے تاکہ غلط تاثر کو درست کیا جا سکے۔
























