اکثر گھروں میں بچوں کو چیونگم چبانے سے روکا جاتا ہے اور بڑوں کے لیے بھی اسے ایک غیر ضروری عادت سمجھا جاتا ہے، لیکن طبی ماہرین کی رائے اس سوچ سے مختلف ہے۔

کان، ناک اور گلے کے ماہر ڈاکٹر امود کمار کے مطابق چیوئگم درست طریقے سے اور محدود مقدار میں چبائی جائے تو یہ صحت خاص طور پر کانوں اور دماغی کارکردگی کے لیے کئی فوائد رکھتی ہے۔

ہندوستان ڈاٹ کام کے مطابق مظفر نگر میں ای این ٹی اسپیشلسٹ ڈاکٹر امود کمار نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ چیونگم چبانا دراصل چہرے اور منہ کے مسلز کے لیے ایک طرح کی فزیوتھراپی ہے۔ اس سے کانوں کے اندر موجود عضلات مضبوط ہوتے ہیں اور زبان کے مسلز کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔

ان کے مطابق چیوئگم چبانے سے خراٹوں کے مسئلے میں بھی کچھ حد تک کمی آ سکتی ہے کیونکہ یہ گلے کے مسلز کو متحرک رکھتی ہے۔

ایسے افراد جو ناک بند ہونے، خشک کھانسی یا منہ کے خشک رہنے کی شکایت کرتے ہیں، ان کے لیے بھی یہ مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ چیوئگم منہ میں لعاب (Saliva) کی مقدار بڑھاتی ہے، جس سے منہ خشک نہیں ہوتا اور حلق بھی نم رہتا ہے۔

فضائی آلودگی کے دنوں میں جب اے کیو آئی زیادہ ہو اور ناک سے سانس لینا مشکل ہو جائے، اس وقت چیوئگم چبانے سے اورل بریتھنگ میں آسانی ہو سکتی ہے اور سانس لینے کی جدوجہد کم محسوس ہوتی ہے۔

صرف یہی نہیں، نیشنل ہیلتھ لائبریری اور نیشنل سینٹر فاربایوٹیکنالوجی انفارمیشن کی رپورٹس کے مطابق چیوئگم دماغی توجہ بڑھانے میں بھی مددگار ہے۔

کام کے دوران گم چبانے سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، فوکس بہتر ہوتا ہے اور مجموعی طور پر ورک پرفارمنس میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چیوئگم کے فوائد ہیں، لیکن اس کا زیادہ استعمال نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے، اس لیے شوگر فری گم کا انتخاب کریں اور اعتدال میں رہ کر استعمال کریں۔

درست مقدار میں چیوئگم نہ صرف منہ کی ورزش بن سکتی ہے بلکہ دماغ اور کانوں کی صحت کے لیے بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

More

Comments
1000 characters