پاکستان کی نشریاتی تاریخ کی ایک درخشاں آواز عشرت فاطمہ نے تقریباً 45 برس تک ریڈیو اور ٹیلی وژن سے وابستگی کے بعد خاموشی سے اپنی ذمہ داریوں کو خیرباد کہہ دیا ہے۔

اپنے مختصر الوداعی کلمات میں عشرت فاطمہ نے کہا کہ ریڈیو پاکستان سے علیحدگی کا فیصلہ ان کے لیے نہایت مشکل تھا، تاہم انہوں نے اس فیصلے کی وجوہات بیان نہیں کیں۔ ادارے کی جانب سے بھی تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

عشرت فاطمہ کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے محض خبر نہیں سنائی بلکہ زبان، لہجے اور تلفظ کے ذریعے نشریات کو ایک معیار عطا کیا۔ ان کی آواز دہائیوں تک پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے خبرناموں کی شناخت بنی رہی۔

عشرت فاطمہ نے اپنے کیرئیر کا آغاز ریڈیو پاکستان کے پروگرام ’کھیل اور کھلاڑی‘ سے کیا تھا۔ ابتدا میں وہ پی ٹی وی پر موسم کا حال سناتی رہیں، اور بعد ازاں رات نو بجے کے اردو خبرنامے میں خبریں پڑھ کر ملک بھر میں مقبول ہو گئیں۔ 1980، 1990 اور 2000 کی دہائیوں میں ان کا نیوز ریڈنگ کا انداز اور مخصوص لب و لہجہ بے حد پسند کیا گیا۔

2007 تک پی ٹی وی سے وابستہ رہنے کے بعد، وہ ریڈیو پاکستان میں تعینات ہوئیں اور وہاں حالاتِ حاضرہ کے پروگرامز کرتی رہیں۔

عشرت فاطمہ نے وائس آف امریکا سے بھی منسلک رہنے کا اعزاز حاصل کیا۔

سینئر صحافی فوزیہ کلثوم رانا نے انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عشرت فاطمہ کا کریئر صرف وقت کی طوالت نہیں بلکہ ایسے لمحات، واقعات اور یادگار نشریات کا مجموعہ ہے، جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر سنی اور یاد رکھی گئیں۔ ان کے مطابق عشرت فاطمہ جیسی ہمہ جہت اور باوقار براڈکاسٹرز نشریاتی تاریخ میں شاذونادر ہی پیدا ہوتی ہیں۔

فوزیہ کلثوم نے مزید کہا کہ سفارش یا تعلقات وقتی مواقع تو فراہم کر سکتے ہیں، مگر عوامی محبت، اعتماد اور احترام صرف محنت، دیانت اور مضبوط کردار سے ہی حاصل ہوتا ہے اور عشرت فاطمہ اس کی روشن مثال تھیں۔ ان کے ساتھ کام کرنا ہر صحافی کے لیے سیکھنے اور فخر کا باعث رہا۔

مرحوم صحافی ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق نے بھی عشرت فاطمہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ کئی نسلوں نے پی ٹی وی پر عشرت فاطمہ کو سن کر گفتگو، تحریر اور اظہار کے سلیقے سیکھے۔ انہوں نے عشرت فاطمہ کو عاجز، منکسر المزاج اور پاکستان سے مخلص قرار دیا۔

جویریہ صدیق کا کہنا تھا کہ ایسے قیمتی اثاثے کو اداروں سے محض ریٹائرمنٹ پر رخصت کر دینا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق عشرت فاطمہ کو تربیتی یا رہنمائی کے کردار میں استعمال کیا جا سکتا تھا تاکہ ان کا تجربہ نئی نسل کو منتقل ہو سکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عشرت فا طمہ کی آواز، لہجہ اور پیشہ ورانہ اقدار پاکستان کی نشریاتی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

More

Comments
1000 characters