وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل ’پی ٹی وی‘ اور ریڈیو پاکستان کی سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ کو پاکستان ٹیلی ویژن واپس آنے پر آمادہ کر لیا۔ عشرت فاطمہ نے وزیر اطلاعات کی درخواست قبول کرتے ہوئے پی ٹی وی میں مینٹور کی حیثیت سے خدمات انجام دینے پر رضامندی ظاہر کی۔

وفاقی وزیر عشرت فاطمہ کے ریڈیو پاکستان چھوڑ دینے کی اطلاع ملنے پر ان کے گھر پہنچ گئے۔ عطاء اللہ تارڑ نے عشرت فاطمہ کے ساتھ ان کے گھر پر ملاقات میں ان کی 45 سالہ شاندارخدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عشرت فاطمہ نیوز کاسٹنگ اور براڈ کاسٹنگ کے شعبے میں ایک نمایاں شناخت رکھتی ہیں۔ پاکستان کا بچہ بچہ انہیں جانتا ہے۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن کی پہچان ہیں اور انہوں نے ہمیشہ پیشہ ورانہ، غیر جانبدار اور ذمہ دار انداز میں خدمات انجام دیں۔

وزیر اطلاعات نے محترمہ عشرت فاطمہ سے درخواست کی کہ وہ پاکستان ٹیلی ویژن میں مینٹور کی حیثیت سے واپس آئیں تاکہ نئے آنے والے نیوز کاسٹرز کو تربیت دے سکیں، اردو زبان کے فروغ میں کردار ادا کریں اور مشکل حالات، دباؤ یا قدرتی آفات کے دوران نیوز پڑھنے کے طریقے سکھا سکیں۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عشرت فاطمہ کی پی ٹی وی واپسی سے ادارے کو تقویت ملے گی اور نئے آنے والوں کو سیکھنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عشرت فاطمہ کا کبھی سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا اور انہوں نے اپنی پوری زندگی پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق گزاری۔

محترمہ عشرت فاطمہ نے وزیر اطلاعات کی درخواست قبول کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی ویژن واپس آنے پر رضامندی ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے کام سے محبت ہے اور وہ اپنی زندگی کی آخری سانس تک کام کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ، ’جو کام ہم نے ٹھوکروں سے سیکھا ہے اگر کوئی آسان سے سیکھ لے تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔‘

عشرت فاطمہ نے کہا کہ باصلاحیت لوگوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور ان کی دل شکنی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ آگے بڑھنے کے لیے سہارا اور اعتماد بہت ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پی ٹی وی کے لیے جو کچھ بھی کر سکیں گی، ضرور کریں گی۔

واضح رہے کہ عشرت فاطمہ نے حال ہی میں ریڈیو پاکستان سے استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام بھی شیئر کیا ۔ ویڈیو میں انہوں نے ریڈیو پاکستان چھوڑنے کی وجوہات سے آگاہ کیا ، جس پر صحافتی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان کی بھرپور حمایت کی گئی تھی۔

اس موقع پر وزیر اطلاعات نے عشرت فاطمہ کے اہلِ خانہ سے بھی ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔

More

Comments
1000 characters