لندن کی ہائی کورٹ میں جاری ایک اہم مقدمے کے دوران برطانوی شہزادے پرنس ہیری جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور عدالت کو بتایا کہ اخبار ڈیلی میل نے ان کی اہلیہ میگھن مارکل کی زندگی کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیا۔ بیان دیتے ہوئے وہ آبدیدہ ہو گئے۔

رائٹرز کے مطابق یہ مقدمہ ڈیلی میل اور میل آن سنڈے کے ناشر ادارہ ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔

پرنس ہیری کے ساتھ چھ دیگر معروف شخصیات بھی اس کیس کا حصہ ہیں، جن میں گلوکار ایلٹن جان، اداکارہ الزبتھ ہرلی اور دیگر شامل ہیں۔ ان سب نے الزام لگایا ہے کہ 1990 کی دہائی سے 2010 تک ان کی نجی زندگی میں غیرقانونی مداخلت کی گئی۔

41 سالہ ڈیوک آف سسیکس نے عدالت میں کہا کہ جب انہوں نے 2022 میں یہ مقدمہ دائر کیا تووہ صرف معذرت اور جواب دہی چاہتے تھے، مگر اس کے بجائے انہیں دوبارہ اسی تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق، مقدمہ دائر کرنے کے بعد ان کے خلاف رویہ مزید سخت ہو گیا۔

پرنس ہیری نے کہا کہ عدالت میں کھڑے ہو کر حق کے لیے آواز اٹھانا ایک نہایت مشکل تجربہ ہے اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ میڈیا اب بھی ان کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ڈیلی میل نے ان کی اہلیہ کی زندگی کو ”انتہائی کربناک“ بنا دیا۔

ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ان کے صحافیوں نے تمام معلومات قانونی اور معتبر ذرائع سے حاصل کیں، جن میں مشہور شخصیات کے قریبی جاننے والے شامل تھے۔ تاہم پرنس ہیری نے عدالت میں اس مؤقف کو سختی سے رد کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی صحافی کے دوست نہیں رہے اور نہ ہی کبھی ایسا تعلق رہا ہے جس کی بنیاد پر نجی معلومات دی گئی ہوں۔

ان کے مطابق، اگر رپورٹرز کے ذرائع واقعی اتنے مضبوط تھے تو پھر نجی جاسوسوں کی خدمات لینے کی کیا ضرورت تھی، جو غیرقانونی طریقوں سے معلومات اکٹھی کرتے رہے۔

پرنس ہیری کے وکلا کے مطابق مقدمہ 14 ایسی خبروں پر مبنی ہے جو غیرقانونی ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات پر شائع کی گئیں۔ ان میں وائس میل ہیک کرنا، فون لائنز سننا اور دھوکے سے ذاتی معلومات حاصل کرنا شامل ہے، جسے میڈیا کی زبان میں ”بلاگنگ“ کہا جاتا ہے۔

یہ مقدمہ 2022 میں دائر کیا گیا تھا اور اس نے ایک بار پھر برطانوی میڈیا کو فون ہیکنگ اسکینڈل کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ اس کیس میں اداکارہ الزبتھ ہرلی کے جمعرات کو عدالت میں بیان دینے کی توقع ہے۔

پرنس ہیری، جو ماضی میں اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کی ہلاکت کا ذمہ دار بھی میڈیا کو قرار دیتے رہے ہیں، نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ اگر ملک کے سب سے طاقتور میڈیا ادارے کو جواب دہ نہ بنایا گیا تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے طاقتور اور خوف پھیلانے والے میڈیا اداروں کے سامنے عام آدمی کے پاس انصاف کے لیے صرف عدالت ہی آخری امید ہوتی ہے۔

More

Comments
1000 characters