ہر شادی میں کچھ کردار لازمی ہوتے ہیں۔ سجی سنوری دلہن، پریشان سا دولہا، خوش مزاج بہنیں، جذباتی والدین اور بعض اوقات ایک ایسی ساس جو اپنی موجودگی سے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔

بھاری لباس، نمایاں زیورات، چمکتا میک اپ اور پر جوش انداز دیکھ کر لوگ سمجھتے ہیں ساس دلہن سے مقابلہ کر رہی ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہی نکلتی ہے۔

ماہرِین نفسیات کا کہنا ہے کہ اس رویے کو صرف حسد یا توجہ کی طلب سے جوڑنا ادھورا تجزیہ ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر معاملات میں یہ رویہ لاشعوری ہوتا ہے اور اس کے پیچھے ایک گہرا جذباتی خوف چھپا ہوتا ہے، ”نظرانداز ہو جانے کا خوف“۔

ہمارے معاشرے میں شادی صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک جذباتی تبدیلی ہوتی ہے۔ ماؤں، خاص طور پر بیٹوں کی ماؤں، کی زندگی کا محور ہی بیٹا ہوتا ہے۔

وہ عورت جو برسوں تک بیٹے کی زندگی کا مرکز رہی، اچانک محسوس کرتی ہے کہ اس کی حیثیت بدل رہی ہے۔ اگرچہ وہ جانتی ہے کہ بیٹا کہیں نہیں جا رہا، مگر دل کو سمجھانا اتنا آسان بھی نہیں۔ اپنے کردار کی اہمیت کم ہونے کا احساس اس کے لیے تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق، یہ اصل میں مقابلہ نہیں بلکہ اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش ہوتی ہے۔ جیسے کہ وہ کہہ رہی ہوں، ’میں اب بھی اہم ہوں‘۔

پرانی نسل کی بہت سی خواتین کی پرورش اس انداز میں ہوئی ہے کہ ان کی پہچان صرف خاندانی کرداروں ماں، بیوی یا بہو بن کر ہی رہ جاتی ہے۔ ایسے میں شادیاں ان کے لیے چند مواقع میں سے ایک بن جاتی ہیں جہاں انہیں نمایاں ہونے کی سماجی اجازت ملتی ہے۔

اگر یہ رویہ صرف شادی تک محدود رہے تو بات ہنسی مذاق تک رہتی ہے لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب یہی رویہ روزمرہ زندگی میں بھی حاوی ہونے لگے۔

نئی دلہن کی بے چینی کو اہمیت نہ دی جائے اور جوڑے کو وفاداری کے دباؤ میں ڈال دیا جائے تو یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بظاہر معمولی باتیں رشتوں میں تناؤ پیدا کرنے لگتی ہیں۔

ماہرین نفسیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ محفوظ اور مطمئن مائیں توجہ کے لیے مقابلہ نہیں کرتیں بلکہ تعلق کو نئے انداز میں آگے بڑھنے دیتی ہیں، نہ کنٹرول، نہ نمائش اور نہ بے جا مداخلت کے ساتھ۔

حل مگر حیران کن طور پر بہت سادہ ہے۔ جب کوئی ساس اپنی زندگی میں دلچسپیاں رکھیں، اپنی شناخت صرف بیٹے سے نہ جوڑیں تو انہیں اسپاٹ لائٹ چھیننے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

اس لیے اگلی بارجب کسی شادی میں کوئی ساس کچھ زیادہ ہی جگمگاتی نظر آئیں، تو مسکرانے کے ساتھ یہ بھی سوچ لیجیے گا کہ شاید یہ دلہن سے آگے نکلنے کی کوشش نہیں، بلکہ خود کو پیچھے رہ جانے سے بچانے کی ایک معصوم سی خواہش ہے۔

More

Comments
1000 characters