پاکستان کی معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے کے عالمی یومِ تعلیم کے موقع پر ریلیز کیے گئے نئے گانے کی تعریف کی ہے، جس میں بچوں پر بڑھتے ہوئے تعلیمی دباؤ اور ان سے چھن جانے والے بچپن کو مرکزی موضوع بنایا گیا ہے۔
عشرت فاطمہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شہزاد رائے کے نئے گانے کا ٹریلر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ شہزاد رائے ایک ایسے سماجی کارکن ہیں جن کی جدوجہد کا محور بچوں کی تعلیم ہے۔
ان کے مطابق عالمی یومِ تعلیم کے حوالے سے ریلیز کیا گیا یہ نغمہ ایک ایسے سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے جس نے بچوں سے ان کی معصومیت اور بچپن چھین لیا ہے۔
نیوز کاسٹر نے اپنی پوسٹ میں ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ جب ان کے بیٹے کی عمر صرف سوا دو سال تھی تو اس کا اسکول میں داخلہ کروایا گیا اور وہ اسے ڈائیپر پہنائے اسکول لے کر جاتی تھیں۔
ان کے مطابق اس عمر میں تربیت یا سیکھنے سے زیادہ ضروری یہ تھا کہ بچے کو رنگوں، جسم کے حصوں، ہندسوں اور الفاظ کی پہچان سکھائی جائے تاکہ داخلے کے معیار پر پورا اترا جا سکے۔
عشرت فاطمہ نے تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ کم عمری میں بچوں پر بھاری بستوں کا بوجھ، رات گئے تک ہوم ورک، والدین کا بچوں کے ساتھ مسلسل تعلیمی کاموں میں جُتا رہنا اور پریزنٹیشنز و پروجیکٹس نے بچوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔
ان کے مطابق نہ بچوں کو کھیل کے میدان میسر ہیں اور نہ ہی گلی محلوں میں آزادانہ کھیلنے کا موقع، بلکہ ان کے ذہن کتابوں، اساتذہ اور تعلیمی دباؤ کے نیچے دب چکے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ زندگی گویا سیدھی لڑکپن سے شروع ہو جاتی ہے اور بچپن کہیں آتا ہی نہیں۔
عشرت فاطمہ نے اپیل کی کہ بچوں کا یہ حسین وقت ان کا بنیادی حق ہے، انہیں جینے دیا جائے، اور انہیں مقابلے کی دوڑ میں جھونکنے کے بجائے ڈگریوں کے حصول کے لیے نہیں بلکہ سمجھ اور فہم کے لیے تعلیم دی جائے۔
انہوں نے اس اہم مسئلے کو نغمے کے ذریعے اجاگر کرنے کی شہزاد رائے کی کاوش پر انہیں سراہتے ہوئے لکھا کہ شہزاد رائے نے ایک بہترین کام اور بہترین نغمہ پیش کیا ہے۔
واضح رہے کہ شہزاد رائے نے بھی اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا تھا، ’مجھے ان بچوں کی فکر ہے جو اسکول نہیں جاتے، لیکن اس سے زیادہ ان بچوں کی فکر ہے جو اسکول تو جاتے ہیں مگر سوچنے کی صلاحیت پیدا نہیں کر پاتے۔‘
























