ہالی ووڈ اداکارہ مارگوٹ روبی نے اپنی نئی فلم کے پریمیئر پر ایک ایسا ہار پہنا جو سب کی نگاہیں اپنی طرف کھینچ گیا اور فیشن کے ساتھ ساتھ تاریخ کے شوقین لوگوں میں بھی ہلچل پیدا کر گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ ہار عام زیور نہیں بلکہ مغل ملکہ نورجہاں سے منسوب صدیوں پرانا ”تاج محل ڈائمنڈ نیکلس“ ہے، جو ماضی میں اداکارہ الزبتھ ٹیلر کی ملکیت بھی رہا۔
مارگوٹ روبی نے پریمیئر کے موقع پر سکییاپارلی کا خوبصورت لباس پہنا، لیکن سب کی توجہ ان کے گلے میں موجود نایاب ہار پر تھی۔
یہ ہار دل کی شکل کا قیمتی ہیرا جیڈ میں جڑا ہوا ہے، جس پر سونا، روبی اور ڈائمنڈ بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ہار پر فارسی میں عبارت کندہ ہے:
”محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے“
ہار پر ملکہ نور جہاں کا نام ، ان کا لقب ”لیڈی آف دی پادشاہ“ اور سنہ 1037 ہجری (تقریباً 1627–28 عیسوی) بھی درج ہے۔
روایت کے مطابق یہ ہار بادشاہ جہانگیر نے اپنی محبوبہ نورجہاں کو تحفے میں دیا تھا۔ بعد میں یہ زیور مغل بادشاہ شاہ جہان کی اہلیہ ملکہ ممتاز محل تک پہنچا اور اسی وجہ سے اسے ”تاج محل ڈائمنڈ“ بھی کہا جانے لگا۔
صدیوں بعد یہ ہار یورپی جواہرات کے برانڈ کارٹیئر کے پاس آیا، جہاں اسے نئے انداز میں ڈیزائن کیا گیا۔
1972 میں کارٹیئر نے یہ ہار اداکارہ الزبتھ ٹیلر کو ان کے شوہر رچرڈ برٹن کی جانب سے تحفے میں دیا۔
2011 میں الزبتھ ٹیلر کے انتقال کے بعد یہ ہار نیلامی میں 88 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوا، جو اس وقت زیورات کی تاریخ میں ریکارڈ قیمت تھی۔
مارگوٹ روبی کا یہ ہار پہنا جانا صرف فیشن تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ نوآبادیاتی دور کے نوادرات اور تاریخی خزانے واپس لانے کی روایت کو بھی تازہ کر گیا۔
یہ ہیرے اور دیگر قیمتی زیورات وہ ہیں جو صدیوں پہلے برصغیر پاک و ہند سے باہر لے جائے گئے۔
























