بولی ووڈ کی ایکشن سے بھرپور فلم ’دھرندھر‘ اگر ہالی ووڈ پر دوبارہ تخلیق کی جائے تو کیسا منظر ہوگا؟ سوشل میڈیا پر یہی سوال اس وقت موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، جہاں ایک تخیلاتی مگر زبردست ہالی ووڈ کاسٹنگ نے فلمی شائقین کو خاصا متاثر کیا ہے۔
فلم ’دھرندھر‘ اپنی دلچسپ کہانی، مضبوط کرداروں اور بہترین ڈائریکشن کی وجہ سے ریلیز کے فوراً بعد ہی بھارتی شائقین میں مقبول ہوگئی۔
فلم ایکشن، تنازع اور جذباتی کشمکش سے بھرپور دکھائی گئی ہے، جس نے ناظرین کو ہر منظر میں اپنی گرفت میں رکھا۔
اس فلم کی کہانی میں کراچی کا علاقہ لیاری دکھایا گیا ہے، جہاں ایک بھارتی جاسوس رحمان ڈکیت کے گینگ میں گھس کر پاکستان کے خلاف سازش رچاتا ہے۔
جیسا کہ بولی ووڈ پاکستان مخالف فلموں میں ہمیشہ دکھاتا آیا ہے، فلم میں دکھائے گئے واقعات حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔
فلم کے پہلے حصے کا اختتام رنویر سنگھ کے ہاتھوں رحمان ڈکیت کی موت سے ہوا تھا اور اب اس کے سیکوئل ’دھرندھر 2‘ کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔
ویسے تو رنویر سنگھ حمزہ علی مزاری کے روپ میں، سنجے دت چوہدری اسلم، اکشے کھنہ بطور رحمان ڈکیت اور ارجن رامپال میجر اقبال کے روپ میں خوب جچے۔ لیکن سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ اور تخیلاتی بحث نے جنم لیا ہے۔
شائقین کو خیال آیا کہ اگر بولی ووڈ کاسٹنگ اتنی زبردست ہے تو اگر دھرندھر کو ہالی ووڈ کے انداز میں دوبارہ بنایا جائے تو کاسٹنگ کیسی ہوگی؟“
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’انسٹاگرام‘ پر اے آئی سے تیار کردہ ایک وائرل پوسٹ میں ’دھرندھر‘ کو عالمی اسکیل پر ری امیجن کرتے ہوئے ہالی ووڈ کے بڑے اداکاروں کو مرکزی کرداروں کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جس سے فلمی شائقین خاصے محظوط ہورہے ہیں۔
اس تصوراتی ہالی ووڈ کاسٹنگ کے مطابق، کرس ایوانز کو مرکزی کردار حمزہ کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے، جو کردار کی جذباتی شدت اور جسمانی طاقت کو عالمی انداز میں پیش کر سکتے ہیں۔
بااثر اور مضبوط ایس پی چوہدری اسلم کے کردار کے لیے جوش برولن کو دکھایا گیا ہے۔
منفی مگر ذہین کردار رحمان ڈکیت کے لیے رابرٹ ڈاؤنی جونیئر کا نام سامنے آیا ہے، جو اس کردار کو ایک الگ رنگ دے سکتے ہیں۔
جبکہ نظم و ضبط اور وقار کے حامل میجر اقبال کے کردار میں ادریس ایلبا کو فِٹ قرار دیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہالی ووڈ کے ایکٹر تمام کرداروں میں نگینے کی طرح فٹ نظر آتے ہیں اور حقیقی کردار ہی محسوس ہوتے ہیں۔
ایکس پر بھی ایک صارف نے بھی اے آئی کا سہارا لیتے ہوئے ویڈیو شکل میں ہالی ووڈ اسٹارز کو ’دھرندھر‘ کے کرداروں میں دکھایا ہے۔
دھرندھر کے اس ہالی ووڈ ورژن میں حمزہ علی مزاری کے کردار میں کرسچن بیل نظر آئے جبکہ سیلین مرفی کو رحمان ڈکیت کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اگر کہانی وہی رہے، کرداروں کی شدت برقرار رکھی جائے اور ہالی ووڈ کے وسائل شامل ہوں تو دھرندھر ایک بین الاقوامی سطح کی فلم بن سکتی ہے جو عالمی ناظرین کو بھی متاثر کرے گی۔
ادھر دوسری جانب، دھرندھر کی شاندار باکس آفس پر شاندار کامیابی کے بعد اس کے سیکوئل ’’دھرندھر 2: دی ریونج‘‘ کا ٹیزر گزشتہ روز جاری کر دیا گیا ہے۔
ٹیزر میں رنویر سنگھ کو ایک بار پھر نہایت خطرناک اور بے رحم انداز میں کراچی کے علاقے لیاری کی گلیوں میں دندناتے اور تباہی مچاتے دکھایا گیا ہے۔
ٹیزر کے جاری ہونے سے پہلے فلم ’’دھرندھر 2: دی ریونج‘‘ کا نیا پوسٹر بھی سامنے آیا، جسے رنویر سنگھ نے خود اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کیا۔
پوسٹر میں سرخ رنگ غالب ہے، جو فلم کے انتقامی مزاج اور شدت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ بیک گراؤنڈ میں خون آلود دیوار پر بڑے حروف میں ”THE REVENGE“ درج ہے۔

پہلی فلم کے برعکس، ’دھرندھر 2‘ کو پانچ زبانوں ہندی، تیلگو، تمل، کنڑ اور ملیالم میں سینما گھروں میں ریلیز کیا جائے گا۔ فلم کی ریلیز کی تاریخ 19 مارچ مقرر کی گئی ہے۔
فلم کی کہانی اور ہدایت کاری آدتیا دھر نے کی ہے، جبکہ پروڈیوسرز میں آدتیا دھر کے علاوہ جیوتی دیش پانڈے اور لوکیش دھر شامل ہیں۔

‘دھرندھر‘ کی ریلیز کے وقت پاکستان مخالف پروپیگینڈے کی وجہ سے کچھ خلیجی ممالک بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔
اس کے باوجود فلم نے باکس آفس پر تاریخ رقم کی، اور تجارتی ویب سائٹ سیکنِلک کے مطابق بھارت میں 1000 کروڑ روپے سے زائد کی کمائی کر کے وہ پہلی بھارتی فلم بن گئی جو صرف ایک زبان میں ریلیز ہو کر یہ کارنامہ انجام دیتی ہے۔
پانچ دسمبر کو بھارت سمیت متعدد ممالک میں ریلیز ہونے کے بعد، دھرندھر نے باہوبلی 2، کے جی ایف 2 اور پشپا 2 جیسی بڑی ہٹ فلموں کے ساتھ اپنی جگہ قائم کر لی۔
























