بولی ووڈ کے معروف اداکار راجپال یادو کو عدالت سے فوری طور پر ضمانت نہ مل سکی، جس کے بعد ان کے کیس کی آئندہ سماعت پیر کے روز مقرر کر دی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے راجپال یادو پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ضمانت کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔
رپورٹس کا کہنا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے چیک باؤنس کے ایک طویل مقدمے میں بولی ووڈ اداکار راجپال یادو کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیے ہیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ اداکار نے متعدد بار ادائیگی کے وعدے کیے لیکن انہیں پورا نہیں کیا، جس کے باعث انہیں جیل جانا پڑا۔ کیس کی مزید سماعت اب پیر کو ہوگی۔
جسٹس سورنا کانتا شرما نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ راجپال یادو کم از کم دو درجن مواقع پر عدالت کو یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ وہ شکایت کنندہ کو رقم ادا کریں گے، تاہم رقم جمع نہیں کرائی گئی۔ جج نے کہا، ’آپ جیل اس لیے گئے کیونکہ آپ نے اپنا ہی وعدہ پورا نہیں کیا۔‘
عدالت نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ پہلے دفاعی وکیل کی جانب سے کہا گیا تھا کہ رقم براہِ راست شکایت کنندہ کو ادا کی جائے گی، مگر اب مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ رقم عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔ جسٹس شرما نے وکیل کو ہدایت دی کہ وہ اپنا واضح مؤقف پیش کریں۔
راجپال یادو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے مؤکل سے رابطہ نہیں کر سکے، تاہم ضمانت کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
انہوں نے استدعا کی کہ شکایت کنندہ سے جواب طلب کر کے سماعت پیر تک ملتوی کی جائے، جس پر عدالت نے معاملہ مؤخر کرتے ہوئے فریقِ مخالف کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔
اداکار نے ضمانت کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خاندان میں شادی کی تقریب ہے، اس لیے انہیں عبوری ریلیف دیا جائے۔
واضح رہے کہ راجپال یادو کے قانونی مسائل کا آغاز 2010 میں ہوا جب انہوں نے اپنی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ کے لیے پانچ کروڑ روپے کی رقم ایک نجی کمپنی سے لی تھی۔
فلم باکس آفس پر ناکام رہی جس کے بعد مالی مشکلات بڑھتی گئیں اور واجب الادا رقم مبینہ طور پر تقریباً نو کروڑ روپے تک جا پہنچی۔
2018 میں ایک مجسٹریٹ عدالت نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ رادھا یادو کو نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کے تحت قصوروار قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔
جون 2024 میں دہلی ہائی کورٹ نے ان کی سزا عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ وہ شکایت کنندہ کمپنی، مرالی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ، کے ساتھ سنجیدہ اور مخلصانہ تصفیے کی کوشش کریں۔
تاہم حالیہ سماعت میں عدالت نے نوٹ کیا کہ ادائیگی سے متعلق یقین دہانیوں پر عمل نہیں کیا گیا، جس کے بعد انہیں 4 فروری تک سرنڈر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس وقت راجپال یادو تہاڑ جیل میں ہیں۔
راجپال یادو مختلف انٹرویوز میں یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ مذکورہ رقم قرض نہیں بلکہ فلم میں سرمایہ کاری تھی۔ ان کے مطابق رقم بطور سیکیورٹی چیک دی گئی تھی اور انہوں نے اس پر کبھی سود ادا نہیں کیا۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’مجھے ایک فلم بنانے کے لیے مدھو گوپال اگروال کی طرف سے پانچ کروڑ روپے ملے۔ میں نے اسے قرض کے طور پر نہیں لیا، بلکہ انہوں نے یہ رقم سرمایہ کاری کے طور پر دی کیونکہ وہ اپنے پوتے کو مرکزی کردار کے طور پر فلم میں لانچ کرنا چاہتے تھے۔‘
اداکار کا کہنا ہے کہ مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور انہیں عدالت پر مکمل اعتماد ہے۔
کیس کی آئندہ سماعت پیر کو ہوگی، جہاں ضمانت کی درخواست پر مزید دلائل پیش کیے جائیں گے۔
























