سینئر بھارتی گلوکار اُدت نارائن کو سال بھر پرانے مقدمے میں نئے الزامات کا سامنا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اُدت نارائن کی پہلی اہلیہ رنجنا نے گلوکار کے خلاف ریاست بہار کے ضلع سپول کے خواتین پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔
بھارت کے معروف پلے گلوکار اُدت نارائن ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گئے ہیں، جب ان کی پہلی اہلیہ رنجنا نے بہار کے ضلع سپول میں قائم ویمنز پولیس اسٹیشن میں باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ رنجنا نے الزام لگایا ہے کہ اُدت نارائن، ان کے دو بھائیوں اور دوسری اہلیہ نے مل کر ان کے خلاف سنگین مجرمانہ کارروائیاں کیں۔
رنجنا منگل کے روز اپنے وکیل کروناکانت جھا کے ہمراہ پولیس اسٹیشن پہنچیں اور تحریری درخواست جمع کرائی۔ شکایت میں ان کا کہنا ہے کہ ایک مبینہ سازش کے تحت علاج کے بہانے ان کا رحم نکال دیا گیا، جس کی انہیں اس وقت کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ رنجنا کے مطابق اس حقیقت کا علم انہیں برسوں بعد طبی علاج کے دوران ہوا۔
درخواست میں رنجنا نے اپنی شناخت 61 سالہ چندرکانت جھا کی بیٹی کے طور پر کرائی ہے، جو سپول ضلع کے بلوآ بازار تھانہ کی حدود میں واقع سنسکرت نرمَلی وارڈ نمبر 11 کی رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی شادی 7 دسمبر 1984 کو ہندو رسم و رواج کے مطابق اُدت نارائن سے ہوئی تھی۔
رنجنا کے مطابق اُدت نارائن 1985 میں موسیقی کے کیریئر کے لیے ممبئی چلے گئے۔ اسی دوران انہیں میڈیا رپورٹس کے ذریعے معلوم ہوا کہ اُدت نارائن نے دیپا نارائن نامی خاتون سے دوسری شادی کر لی ہے، تاہم جب بھی انہوں نے اس بارے میں سوال کیا تو مبینہ طور پر انہیں گمراہ کیا جاتا رہا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ 1996 میں اُدت نارائن اپنے بھائیوں سنجے کمار جھا اور للت نارائن جھا کے ساتھ انہیں دہلی کے ایک بڑے اسپتال لے گئے، جہاں علاج کے بہانے بغیر ان کی رضامندی رحم نکال دیا گیا۔ رنجنا کا دعویٰ ہے کہ اس وقت دیپا نارائن بھی اسپتال میں موجود تھیں۔
رنجنا کے مطابق 2006 میں جب وہ ممبئی گئیں تو اُدت نارائن اور دیپا نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں گھر میں داخل ہونے نہیں دیا۔ بعد ازاں وہ نیپال میں اپنے سسرال گئیں، جہاں مبینہ طور پر ان کی توہین کی گئی اور وہاں سے بھی نکال دیا گیا۔ اس کے بعد سے وہ اپنے میکے میں رہ رہی ہیں۔
رنجنا کا کہنا ہے کہ وہ پہلے بھی سپول فیملی کورٹ اور ویمنز کمیشن سے رجوع کر چکی ہیں، جہاں اُدت نارائن نے انہیں اپنی اہلیہ تسلیم کرتے ہوئے سمجھوتہ نامہ جمع کرایا تھا، مگر ان کے مطابق اس کے بعد بھی نہ وعدے پورے کیے گئے اور نہ ہی انہیں عزت یا مالی سہارا ملا۔
بیماری اور مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے رنجنا نے بتایا کہ بعد کے طبی معائنے کے دوران جب انہیں رحم نکالے جانے کا علم ہوا تو انہوں نے ایک بار پھر ویمنز پولیس اسٹیشن سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے رنجنا نے کہا کہ اُدت نارائن بار بار وعدے کرتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں کرتے۔ ان کے مطابق وہ مسلسل بیمار رہتی ہیں اور انہیں مدد کی ضرورت ہے، مگر اُدت نارائن نہ کچھ کہتے ہیں اور نہ ہی عملی قدم اٹھاتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ویمنز کمیشن میں ابتدا میں ان کی درخواست لینے سے انکار کیا گیا، بعد میں تحریری درخواست پر کیس درج ہوا، مگر صورتحال آج بھی وہی ہے۔
رنجنا کے مطابق معاملہ عدالت میں بھی زیر سماعت ہے اور اُدت نارائن وہاں پیش ہو چکے ہیں، لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
ادھر ویمنز پولیس اسٹیشن کی انچارج انجو تیواری نے بتایا کہ شکایت میں بیان کیے گئے واقعات تقریباً تین دہائی پرانے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے، حقائق سامنے آنے کے بعد ایف آئی آر درج کی جائے گی اور قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
























