کراچی میں ایک اسپورٹس کلب میں رنگین روشنیوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں مغربی نائٹ پارٹیز کی طرز پر جھومتے نظر آئے۔ تقریب کے منتظمین کی جانب سے ایونٹ کو ’سوبر سوشلائزنگ‘ کے نام سے متعارف کرایا گیا اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ کلچر مقامی، مذہبی و سماجی اقدار سے بھی ہم آہنگ ہے۔

کراچی میں حال ہی میں ایک اِن ڈور اسپورٹس کلب میں ’12 ایکسپیرئنس‘ نامی پلیٹ فارم کے تحت ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

اس تقریب کی خاص بات یہ ہے کہ اسے روایتی طور پر دنیا بھر میں کی جانے والی ’نائٹ پارٹیز‘ کے متبادل کے طور پر مقامی قوانین اور سماجی اقدار کی حدود میں رہتے ہوئے منعقد ہونے والے ایونٹ کے طور پر متعارف کرایا گیا اور اس تصور کو ’سوبر سوشلائزنگ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

سوبر سوشلائزنگ سے مراد ایسی سماجی تقریبات یا میل جول ہے جہاں شراب یا منشیات کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ عام طور پر اس کا مقصد ہوش و حواس میں رہتے ہوئے بامقصد تعلقات استوار کرنا اور تفریح کرنا ہے اور یہ کلچر اب مغربی ممالک میں عام ہوتا جارہا ہے۔

 تصویر بذریعہ رائٹرز
تصویر بذریعہ رائٹرز

پاکستان میں مغربی طرز پر منعقد ہونے والی تقریبات عام طور پر خفیہ مقامات تک محدود رہتی تھیں جہاں شراب اور منشیات کی موجودگی کے باعث قانونی کارروائی کا خدشہ بھی رہتا تھا۔ تاہم اس ایونٹ کو مقامی میڈیا کے علاوہ بعض غیر ملکی میڈیا اداروں نے بھی نمایاں کوریج دی ہے۔

کراچی میں منعقد ہونے والی اس تقریب کو برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی رپورٹ کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں نوجوانوں کے سماجی میل جول کے انداز میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے اور نوجوان ’سوبر سوشلائزنگ‘ کو ترجیح دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کراچی میں منعقدہ اس تقریب میں شرکاء کی تعداد محدود رکھی گئی تھی، جن کے ہاتھوں میں کافی اور چائے کے کپ تھے، یہاں شراب منع تھی اور موسیقی بھی رات 10 بجے بند کردی گئی تھی۔

تقریب کے دوران نوجوان رقص اور موسیقی سے محظوظ ہونے کے علاوہ پیڈل بھی کھیلتے دکھائی دیے جو اسکواش اور ٹینس کا امتزاج ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس تقریب کے منتظمین نے شراب نوشی کی ممانعت کی شرط پر مقامی حکومت سے اجازت حاصل کر رکھی تھی۔

تقریب میں شریک ضیاء ملک نامی شہری کا رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کراچی میں ایسے مقامات کم ہیں جہاں لوگ کھل کر سماجی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔

انہوں نے کہا ماضی میں کچھ تقریبات خفیہ مقامات پر منعقد ہوتی تھیں جہاں شراب اور منشیات کی موجودگی کے باعث چھاپوں اور دیگر مسائل کا خدشہ رہتا تھا۔ ایسے ماحول میں خود کو محفوظ محسوس کرنا مشکل ہوتا تھا جب کہ سوبر سوشلائزنگ جیسی تقریبات میں کھلے عام شرکت ممکن ہے۔

 تصویر بزریعہ رائٹرز
تصویر بزریعہ رائٹرز

منتظمین کے مطابق تقریب کے دوران لڑائی جھگڑے، ہراسانی کے واقعات اور شراب پر پابندی کو یقینی بنانے کے لیے ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جارہی تھی۔

تقریب کا انعقاد کرنے والے پلیٹ فارم کے بانی عثمان احمد کے مطابق ان کا مقصد لوگوں کو ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں نہ کوئی ہنگامہ ہو اور نہ ہی شراب یا منشیات، تاکہ لوگ خود کو محفوظ محسوس کریں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین کے لیے مخصوص تقریبات بھی مقبول ہو رہی ہیں۔

کراچی کے کیفے ’تھرڈ کلچر‘ میں منعقدہ دیسی میوزک نائٹ کا اہتمام کیا گیا۔ یہ کیفے کامیڈین اور سوشل میڈیا انفلوئنسر امتل باویجا کی ملکیت ہے۔

میوزک نائٹ کے دوران میں شریک خواتین نے بلا جھجھک رقص کیا اور یہ تقریب رات 9 بجے اختتام پذیر ہوگئی۔

 تصویر بزریعہ رائٹرز
تصویر بزریعہ رائٹرز

منتظم کے مطابق اس کا مقصد ایسا ماحول فراہم کرنا تھا جہاں خواتین بغیر کسی دباؤ کے لطف اندوز ہو سکیں۔

اس تقریب میں شریک فاطمہ نامی خاتون کا کہنا تھا کہ ایسے پروگراموں میں شرکت سے انہیں یہ فکر نہیں رہتی کہ کون دیکھ رہا ہے۔ ان کے مطابق تقریب کے جلد اختتام سے وہ وقت پر آسانی سے گھر پہنچ جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس طرح کی تقریبات کے ٹکٹس عموماً 3 ہزار سے 7 ہزار روپے کے درمیان ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے عام لوگوں کے لیے ایک رات کی یہ تفریح کافی مہنگی پڑ سکتی ہے۔

اس کے باوجود یہ تقریبات نوجوانوں کے لیے ایک نمایاں اور مقبول تفریح کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔

 تصویر بزریعہ رائٹرز
تصویر بزریعہ رائٹرز

تقریب میں شریک 27 سالہ نوجوان شاہ زیب نے کہا کہ انہیں یہ بات پسند ہے کہ اب ایسی تقریبات خفیہ نہیں رہیں بلکہ عام لوگوں کے لیے کھلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر یہ تصاویر اور ویڈیوز کھلے عام شیئر کی جا سکتی ہیں، جو ماضی میں ممکن نہیں تھا۔

ماہرِ عمرانیات اور کراچی یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کوثر پروین نے اس تبدیلی کو اسلامی اقدار کے اندر رہتے ہوئے جدید طرزِ زندگی اپنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

پروفیسر کوثر پروین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نوجوان مذہبی حدود میں رہتے ہوئے سماجی زندگی کو نئے انداز میں ترتیب دے رہے ہیں۔

More

Comments
1000 characters