پاکستان کے سابق قومی کرکٹر عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کی جانب سے عماد وسیم کی دوسری شادی کی شیئر کی گئی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ثانیہ اشفاق نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں عماد وسیم کو اپنی نئی دلہن کے ساتھ شادی کی تقریب میں خوشگوار موڈ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو کے ہمراہ انہوں نے جذباتی اور سخت الفاظ میں لکھا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے انصاف چاہتی ہیں اور ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔
انہوں نے اشاروں کنایوں میں ایک ”تیسرے فرد“ کو اپنی ازدواجی زندگی کے خاتمے کا سبب قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ سچ اب سب کے سامنے آ چکا ہے۔ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے ان کے حق میں ہمدردی کا اظہار کیا۔
عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ دسمبر 2023 میں عماد وسیم نے لاہور میں ان کے بچے کے اسقاط حمل کا انتظام کروایا۔
ثانیہ اشفاق نے مزید کہا کہ یہ ایک دھوکہ باز ہے اور ان کے پاس اس واقعے کا ویڈیو ثبوت بھی موجود ہے،
دوسری جانب عماد وسیم نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی دوسری شادی کی باضابطہ تصدیق کی۔
انہوں نے اپنے پیغام میں اعتراف کیا کہ ان کی پہلی شادی کامیاب نہ ہو سکی اور یہ ان کی زندگی کا مشکل ترین مرحلہ تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اسی رشتے سے انہیں تین بچوں کی صورت میں سب سے بڑی خوشی ملی، جن سے ان کی محبت ہمیشہ قائم رہے گی۔
عماد وسیم نے بتایا کہ انہوں نے اللہ کے فضل اور والدین کی مشاورت سے نائلہ راجا سے نکاح کر لیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا گیا تاکہ ایک پُرسکون اور باوقار زندگی کی بنیاد رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نائلہ ان کی زندگی میں استحکام اور اعتماد لے کر آئی ہیں۔

یاد رہے کہ عماد وسیم اور ثانیہ اشفاق اگست 2019 میں رشتہ ازدواج میں بندھے تھے اور ان کے تین بچے ہیں۔ دسمبر 2025 میں دونوں کی علیحدگی کا اعلان سامنے آیا۔
اس سے قبل جولائی 2025 میں عماد وسیم کو لندن میں نائلہ راجہ کے ساتھ دیکھے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں، جس کے بعد معاملہ بتدریج عوامی بحث کا حصہ بنتا گیا۔
اس پیش رفت کے بعد سوشل میڈیا دو حصوں میں منقسم نظر آتا ہے۔ ایک طبقہ ثانیہ اشفاق کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہا ہے اور بچوں کے مفاد کو اولین ترجیح دینے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ کچھ صارفین اسے عماد وسیم کی نجی زندگی کا معاملہ قرار دے رہے ہیں۔
























