سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ نے کرکٹر عماد وسیم سے شادی کے بعد پہلی بار تفصیلی بیان جاری کر دیا ہے، جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور ذاتی زندگی سے متعلق گردش کرتی خبروں پر کھل کر بات کی ہے۔

ماضی میں نائلہ راجہ اور عماد وسیم کے تعلقات کی افواہیں اس وقت گردش میں آئیں جب عماد کی پہلی اہلیہ ثانیہ اشفاق نے اپنے شوہر کے مبینہ رویے اور علیحدگی سے متعلق باتیں کیں۔

اس دوران نائلہ اور عماد دونوں نے خبروں کی تردید کی اور تصاویر کو محض ”فین مومنٹ“ قرار دیا تھا۔

تاہم اب منظر بدل چکا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر دونوں کی شادی کی تصاویر سامنے آنے کے بعد نائلہ راجہ نے انسٹاگرام پر ایک تفصیلی پیغام شیئر کیا۔

انہوں نے اپنی شادی کو زندگی کے بہترین فیصلوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے اپنے شوہر کو محبت بھرے انداز میں مخاطب کیا۔

نائلہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ سوشل میڈیا پر ویوز لینا اور ٹرینڈ بنانا آسان ہوتا ہے، لیکن اس کے نتائج اصل زندگی میں بہت تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق صرف وہ شخص اصل درد کو سمجھ سکتا ہے جو اس مرحلے سے گزر رہا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کے دباؤ کے باعث کئی مضبوط شخصیات کو بھی علیحدگی اور عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

خود کو ایک عام لڑکی قرار دیتے ہوئے نائلہ راجہ نے کہا کہ انہوں نے اپنی محنت سے اپنا کیریئر اور زندگی بنائی ہے۔ ابتدا میں انہوں نے بیان اس لیے دیا کیونکہ انہیں لگا کہ شاید معاملے میں کوئی غلط فہمی موجود ہے۔

نائلہ کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ اپنے لیے کھڑی ہوئی ہیں، لیکن اس تمام عرصے میں ان کے کردار اور وقار پر سوال اٹھائے جاتے رہے۔

انہوں نے بتایا کہ صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب کچھ صحافیوں نے ان کی ذاتی زندگی پر گفتگو شروع کر دی۔

ان کے مطابق ان کی نجی زندگی پہلے ہی محدود تھی، مگر لوگوں نے بغیر اجازت ویڈیوز بنا کر پھیلانا شروع کر دیں، یہاں تک کہ ان کے خاندان اور سسرالی رشتہ داروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ ماضی کی تمام باتوں اور تنقید کے باوجود اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مستقبل میں عماد اپنے بچوں سے دوبارہ تعلق بحال کرتے ہیں تو وہ انہیں دل سے قبول کریں گی۔ نائلہ کے مطابق یہ ان کی زندگی کی سچائی ہے اور وہ اسے کھلے دل سے تسلیم کرتی ہیں۔

انہوں نے لکھا، ”میں ان کا خیال رکھوں گی، ان سے محبت کروں گی اور ان کی پرورش نرمی، احترام اور ذمہ داری کے ساتھ اُن کے والد کے ساتھ مل کر کروں گی۔“

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ کچھ لوگوں نے نائلہ کے مؤقف کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ چند افراد نے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔

کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسے شخص پر بھروسہ کیسے کیا جا سکتا ہے جس پر ماضی میں خاندان سے دوری کے الزامات لگتے رہے ہوں۔


More

Comments
1000 characters