رمضان المبارک میں افطاری کے دسترخوان پر پکوڑوں کی موجودگی ایک ایسی روایت ہے جو جنوبی ایشیا (پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش) کی ثقافت کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ پکوڑوں کے بنا افطار ادھوری لگتی ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آخر افطار میں پکوڑے کھانے کی روایت آئی کہاں سے ہے؟
برصغیر ایک زرعی خطہ ہے جہاں چنے کی کاشت کثرت سے ہوتی ہے۔ بیسن سستا اور ہر گھر میں دستیاب ہوتا تھا، اس لیے غریب اور متوسط طبقے کے لیے افطار میں پکوڑے بنانا ایک آسان اور کم خرچ حل تھا۔
قدیم ہندوستان میں بیسن اور سبزیوں کو ملا کر تلنے کا رواج صدیوں سے موجود تھا۔ مغل دور میں جب دسترخوان وسیع ہوئے تو تلی ہوئی چیزوں کو خاص اہمیت ملی، کیونکہ یہ اشرافیہ اور عوام دونوں میں یکساں مقبول تھیں۔
پکوڑا بنیادی طور پر برصغیر کی قدیم غذا ہے۔ قدیم ہندی اور سنسکرت متون میں بھی تلی ہوئی اشیاء کا ذکر ملتا ہے۔
ماہرین خوراک کی تاریخ کے مطابق سنسکرت کے قدیم متن ’مانسولاسا‘ (12ویں صدی) میں بیسن سے بنی تلی ہوئی اشیا کا ذکر موجود ہے، جو آج کے پکوڑوں سے مشابہ سمجھی جاتی ہیں۔ اسی طرح ’بھوجن کتہال‘ اور دیگر قدیم ہندوستانی دستاویزات میں دال یا آٹے کے آمیزے کو تیل میں تلنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔
مغلیہ دور میں تلے ہوئے پکوانوں کو مزید فروغ ملا۔ تاریخی کتاب ’آئینِ اکبری‘ از ابوالفضل (16ویں صدی) میں شاہی دسترخوان پر پیش کیے جانے والے مختلف تلے ہوئے کھانوں کا ذکر ملتا ہے۔ اگرچہ اس میں لفظ ’پکوڑا‘ براہِ راست درج نہیں، لیکن بیسن اور مسالوں سے بنی تلی ہوئی اشیا کا ذکر اس روایت کی قدامت کو ظاہر کرتا ہے۔
تاریخی حوالوں کی بات کی جائے تو مختلف کتابوں میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ کتاب ’اُردو لغت‘ اور ’تاریخِ ہند‘ میں پکوڑے کو برصغیر کی مقامی ایجاد بتایا گیا ہے۔
انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب دہلی اور لکھنؤ کی تہذیب عروج پر تھی، تو وہاں کے بازاروں میں رمضان کے دوران پکوڑوں کے سٹالز لگنے کا ذکر ملتا ہے۔
خوراک کے مؤرخ ’کے ٹی اچایا‘ اپنی کتاب ’اے ہسٹوریکل ڈکشنری آف انڈین فوڈ‘ میں لکھتے ہیں کہ بیسن کی تلی ہوئی اشیاء (جیسے پکوڑا اور وڑا) قدیم دور سے ہی اس خطے کی غذا کا حصہ رہی ہیں۔ مسلمانوں نے ان میں مسالوں اور مختلف سبزیوں کا اضافہ کر کے اسے افطار کی روایت بنایا، اور اس کے کچھ طبی فوائد بھی ہیں۔
روزے کے دوران جسم میں شوگر لیول کم ہو جاتا ہے۔ ماہرینِ خوراک کے مطابق بیسن (چنے کا آٹا) پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے اور جب اسے تیل میں تلا جاتا ہے تو یہ کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی کا ایک ایسا مجموعہ بن جاتا ہے جو افطار کے وقت جسم کو فوری طور پر توانائی فراہم کرتا ہے۔ لیکن کھ ماہرین غذائیت اس کی زیادتی کو نقصان دہ بھی قرار دیتے ہیں۔
لیکن جنوبی ایشیا کے برعکس عرب ممالک میں افطاری پر پکوڑے عام نہیں۔ وہاں روایتی طور پر کھجور اور پانی سے روزہ افطار کرنے کے بعد شوربہ یا ہلکا کھانا کھایا جاتا ہے۔
اسلامی روایات میں بھی کھجور سے افطار کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ احادیث کی کتب ’سنن ابوداؤد‘ اور ’جامع ترمذی‘ میں نبی کریم ﷺ کے کھجور اور پانی سے افطار کرنے کا ذکر ملتا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ پکوڑے کھانے کا رواج کسی ایک واقعے سے شروع نہیں ہوا بلکہ یہ برصغیر کی قدیم روایت اور ضرورت کا ملاپ ہے۔ بیسن کی غذائیت، کم قیمت اور لذیذ ذائقے نے اسے رمضان کا مستقل ساتھی بنا دیا ہے۔
























