فروزن فوڈ آج ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ منجمد خوراک کا یہ تصور کیسے شروع ہوا اور اسے باقاعدہ صنعت کی شکل کس نے دی؟
وہ دور گزر چکا جب ریفریجریٹر میں صرف آئس کیوبس یا آئس کریم رکھی جاتی تھی۔ آج کل زیادہ تر گھروں میں مختلف اقسام کی منجمد اشیائے خورونوش لازمی ملتی ہیں، جو نہ صرف لذیذ ہوتی ہیں بلکہ چند منٹوں میں تیار بھی ہو جاتی ہیں۔ تیز رفتار زندگی میں یہ فروزن فوڈزسہولت اور ذائقے کا بہترین امتزاج سمجھی جاتی ہیں۔
لوگ عموماً شام کے وقت اِن اسنیکس کو ڈیپ فرائی کرتے ہیں یا ایئر فرائر میں پکا لیتے ہیں، جیسے فرنچ فرائز، پیزا، چکن نگٹس، آلو کے ویجز، باؤ بنز، موموز، برگر پیٹیز، سموسے اور کباب وغیرہ۔
مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ خوراک کو فریز کرنے کا یہ تصور کیسے وجود میں آیا اور اس کی ابتدا کس نے کی؟ آئیے اس دلچسپ ایجاد کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
خوراک کو ٹھنڈ کے ذریعے محفوظ رکھنے کا خیال نیا نہیں۔ مورخین کے مطابق تقریباً 3000 قبل مسیح میں قدیم چینی سردیوں کے دوران برف خانوں میں خوراک محفوظ کرتے تھے۔
اسی طرح رومی تہہ خانوں میں برف اور برف کے ڈھیر جمع کر کے اشیائے خورونوش کو خراب ہونے سے بچاتے تھے۔ اس زمانے میں یہ طریقے کھانوں کو محفوظ کرنے میں مؤثر ثابت ہوتے تھے۔
جدید فروزن فوڈز کی بنیاد امریکی موجد کلیرنس برڈز آئی نے رکھی۔ 1912 میں وہ کینیڈا کے علاقے لیبراڈور گئے، جہاں انہوں نے وہاں کے رہائشیوں کو شدید سردی میں تازہ مچھلی اور گوشت فوری طور پر جما کر محفوظ کرتے دیکھا۔ اس تیز رفتار منجمد کرنے کے عمل سے خوراک کا ذائقہ اور ساخت برقرار رہتی تھی۔
یہ مشاہدہ ان کے لیے انقلابی ثابت ہوا۔ امریکہ واپس آ کر انہوں نے تجربات شروع کیے اور ایسا طریقہ ایجاد کیا جس میں خوراک کو انتہائی کم درجہ حرارت پر دھاتی پلیٹوں کے درمیان رکھ کر تیزی سے منجمد کیا جاتا تھا۔
خوراک کو محفوظ کرنے کے اس عمل کو ”فلیش فریزنگ“ کا نام دیا گیا، اس عمل سے کھانے کے خلیات متاثر نہیں ہوتے اور ڈی فروسٹ کے بعد بھی ذائقہ تازہ رہتا ہے۔
1924 میں برڈز آئی نے جنرل سی فوڈز کمپنی قائم کی اور پیک شدہ فروزن مصنوعات فروخت کرنا شروع کیں۔ ابتدا میں مچھلی کے فلیٹس، مختلف اقسام کا گوشت، پالک اور بیریز مارکیٹ میں متعارف کروائے گئے۔
کمپنی نے اشتہارات کے ذریعے صارفین کو یقین دلایا کہ یہ سبزیاں
ایک مخصوص میعاد تک تازہ رکھی جاسکتی ہیں۔
دوسری جنگِ عظیم کے دوران ڈبہ بند اشیاء فوجیوں کے لیے مخصوص ہو گئیں، جس کے بعد عام امریکی صارفین نے فروزن فوڈ کی طرف رخ کیا۔
جنگ کے بعد فروزن خوراک کی فروخت میں حیران کن اضافہ ہوا۔ 1950 کی دہائی میں فِش اسٹکس اور ٹی وی ڈنرز کی آمد نے منجمد کھانوں کو امریکی طرزِ زندگی کا مستقل حصہ بنا دیا۔
آج فروزن فوڈ انڈسٹری دنیا بھر میں اربوں ڈالر کی کامیاب صنعت بن چکی ہے۔ مگر اس جدید سہولت کے پیچھے ایک موجد کی جستجو اور آرکٹک سردی میں کیا گیا ایک سادہ سا مشاہدہ کارفرما تھا، جس نے کھانے کو محفوظ رکھنے کا طریقہ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
























