چاند رات اور عید کی خوشیاں اب صرف نئے کپڑوں اور جوتوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ مردوں کی گرومنگ بھی اس تہوار کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔ نوجوان عید سے پہلے خود کو بہتر اور پُرکشش بنانے کے لیے سیلونز کا رخ کر رہے ہیں، جس کے باعث جگہ جگہ غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پاکستان کے بڑے شہروں میں اب ’نائی کی دکان‘ کا تصور بدل چکا ہے۔ لاہور کے گلبرگ، کراچی کے کلفٹن اور اسلام آباد کے پوش علاقوں میں مینز سیلونز رات گئے تک کھلے رہتے ہیں، جہاں نوجوان صرف بال کٹوانے نہیں بلکہ مکمل گرومنگ سیشنز کروانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

فیشل، بیئرڈ اسٹائلنگ، ہیئر اسپا، مینی کیور اور پیڈیکیور جیسے ٹریٹمنٹس اب عام ہو چکے ہیں، جبکہ کئی افراد عید سے پہلے باقاعدہ اپائنٹمنٹ بک کرواتے ہیں تاکہ رش سے بچ سکیں۔

ماہرین کے مطابق مردوں میں خود کی دیکھ بھال کا شعور پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اب نوجوان صرف صابن پر انحصار نہیں کرتے بلکہ فیس واش، سن بلاک، بیئرڈ آئل اور ہیئر اسٹائلنگ مصنوعات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں۔

عید کے موقع پر یہ رجحان مزید نمایاں ہو جاتا ہے کیونکہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ تقریبات اور خاندانی میل جول میں بہترین نظر آئے۔

دوسری جانب چاند رات کے موقع پر مردانہ گرومنگ مصنوعات کی فروخت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مقامی برانڈز کی جانب سے فیس واش، چارکول ماسک اور داڑھی کے لیے خصوصی سیرمز متعارف کروائے جا رہے ہیں، جبکہ آن لائن شاپنگ پلیٹ فارمز پر گرومنگ کٹس کی مانگ میں تیزی آئی ہے۔

سوشل میڈیا نے بھی اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر پاکستانی انفلوئنسرز مردوں کو اسکن کیئر اور گرومنگ کے حوالے سے آگاہی دے رہے ہیں، نوجوان اب کھل کر اپنی اسکن کیئر روٹین شیئر کرتے ہیں اور دوسروں سے مشورے لیتے ہیں کہ عید کے دن بہتر نظر آنے کے لیے کیا کیا جائے۔ جس سے نوجوانوں میں خود کو سنوارنے کا رجحان مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

اگرچہ معاشرے کے کچھ حلقے اب بھی مردوں کی بیوٹی کو روایتی سوچ کے تحت دیکھتے ہیں، تاہم نئی نسل ان خیالات کو بدل رہی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق خود کو صاف ستھرا اور پُرکشش رکھنا انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب مرد بھی اس جانب بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں مردوں کی گرومنگ انڈسٹری اب ایک واضح حقیقت بن چکی ہے اور چاند رات جیسے مواقع پر اس کا رنگ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

More

Comments
1000 characters