جین زی کے ڈیجیٹل دور سے پہلے، بومرز اور ملینئیل جنریشن کے لیے عید کی خریداری میں صرف کپڑے اور چپل وغیرہ شامل نہیں ہوتے تھے بلکہ عید مبارک کہنے کے لیے خریداری میں خوبصورت عید کارڈز بھی شامل ہوتے تھے جن پر تمام تر محبت اور جذبوں کے ساتھ دلچسپ اشعار اور عید کے پیغامات بھی ہوا کرتے تھے۔ ڈاکیے کی سائیکل کی گھنٹی عید کے کارڈ یا پیغام کا اعلان ہوتی تھی۔
پھر وقت نے کروٹ لی اور دیکھتے ہی دیکھتے عید منانے کے انداز میں تبدیلی آتی چلی گئی۔ خاص طور پر آج جین زی کے ڈیجیٹل دور کو ماضی کی روایتی عید کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تبدیلی صرف سہولت تک محدود نہیں بلکہ جذبات کے اظہار، میل جول، اور تہذیبی روایات کی تبدیلی تک پھیل چکی ہے۔
ٹیکنالوجی نے جہاں میلوں کے فاصلے سیکنڈوں میں سمیٹ دیے ہیں، وہاں شاید لفظوں سے وہ تاثیر اور لمس چھین لیا ہے جو ہاتھ سے لکھے گئے پیغام میں ہوتا تھا۔
اگر ہم اس دور کی بات کریں تو عید کا ایک بالکل مختلف منظر سامنے آتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عید کی آمد صرف چاند دیکھنے کا نام نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے کئی دنوں، بلکہ کئی دنوں کی تیاری، جوش اور بےقراری شامل ہوا کرتی تھی۔
چاند رات ہمیشہ ہی عجیب جذبات اور کیفیات لیے ہوتی، چھوٹے بچوں اور بچیوں کی خوشی ان کے چہروں سے عیاں ہوتی تھی۔ نئے کپڑے، چوڑیاں، مہندی، اور عیدی ملنے کی خوشی اور لڑکوں کی اپنی تیاری۔ کُرتا یا قمیض شلوار، پشاوری چپل، گھڑی اوردھوپ کا چشمہ، یہ سب بچوں کے لیے عید کا اصل مزہ ہوا کرتے تھے۔
عید کے دن، خاندان کی روایات میں ایک دوسرے کے گھر جانا آنا ہوا کرتا تھا اسی لحاظ سے بچوں کے منصوبے بھی تیار ہوتے۔ بچوں کو سب سے بڑی خوشی رشتے داروں سے عید ملنے اور ان کے گھر جانے کی یا گھر پر کزنز اور مہمانوں کے آنے کی ہوا کرتی تھی۔ آج چچا کے گھر جانا ہے، پھر تایا کے، پھر ماموں اور خالہ کے گھر، اور ساتھ میں دوستوں اور کزنز سے ملاقاتیں۔
اپنے کپڑوں اور چیزوں کو بار بار دیکھنا اور پھر بےصبری سے عید کی صبح کا انتظار بلآخر انہیں رات کے کسی پہر میں نیند کی وادیوں میں لے جاتا۔
عید کی صبح کا آغاز بھی ایک خاص ترتیب کے ساتھ ہوتا تھا۔ گھر کے مرد بچوں کو ساتھ لے کر نمازِ عید کے لیے روانہ ہوتے، جبکہ گھر کی خواتین اور لڑکیاں جلدی جلدی اپنی تیاری اور پکوانوں میں مصروف ہو جاتیں۔
عید کی نماز کے بعد لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے، اور عید کی مبارکباد دیتے۔ گھر واپس آتے تو الگ ہی خوشیوں اور رونق کا سماں ہوتا۔ بزرگوں کو سلام اور آداب، دعائیں لینا، اور بچوں کو عیدی دینا خوبصورت روایت کا حصہ تھا۔
عید کی خاص سوغات
”شیر خرما“ عید کی سوغات ہوا کرتا تھا شاید اسی لئے اسے ”میٹھی عید“ بھی کہا جاتا ہے، اس کے ساتھ ہی کرسپی کچوریوں کا اہتمام بھی ہر گھر میں خاص طور پر کیا جاتا تھا۔
خاندانوں میں عید کا دن دادا دادی کے ساتھ اکٹھے منایا جاتا تھا۔ تمام بہن بھائی اپنی فیملیز کے ساتھ جمع ہوتے، اور یوں ایک مکمل خاندانی منظر سامنے آتا، جہاں محبت، احترام اور رشتوں کی مضبوطی نمایاں ہوتی تھی۔ پڑوسیوں کو بھی شیرخرما اور دیگر پکوان بھیجنے کا رواج عام تھا، جو سماجی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال تھا۔
اس سب میں بھلا عید کی تیاریوں اور خوشیوں کا سب سے اہم حصہ یعنی ”عید کارڈز“ کو بھلا ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔ محبتوں کی ترسیل کا سلسلہ ”عید کارڈز“ ہی ہوا کرتے تھے۔ جو نہ صرف دور دراز علاقوں، شہروں اور دوسرے ممالک میں موجود اپنوں کو ’ڈاک‘ کےذریعے بھیجے جاتے تھے جن پر بےحد خوبصورت پیغامات اور اشعار تمام تر احساسات اور جذبات کے ساتھ اپنے ہاتھ سے لکھے جاتے۔

کارڈز خوبصورت اور سادہ ہوا کرتے تھے جن پر اکثر عید مبارک، عید کا کوئی پیغام، دعا اور اشعار بھی پہلے سے پرنٹ ہوتے تھے۔ اس دور کے پیغامات اور اشعار بہت دلچسپ ہوا کرتے تھے جن میں ایک دوسرے سے محبت کا اظہار ہوتا۔

اس کے ساتھ ہی بولی وُڈ اسٹارز کے کوبصورت کارڈز میں بہت پسند کئے جاتے تھے۔ خاص طور پر نوجوان لڑکے لڑکیاں ان کارڈز کو اپنے دوستوں اور سہیلیوں کو ایک چھوٹے سے گفٹ کے ساتھ دیا کرتے تھے۔، جن میں کبھی چوڑیاں، ٹاپس یا بالیاں ہوا کرتی تھیں۔

آئیے کچھ دلچسپ پیغامات اور اشعار پر نظر ڈالتے ہیں۔
عید کارڈز پر لکھے جانے والے پیغامات اور اشعار
گرم گرم روٹی توڑی نہیں جاتی
آپ سے دوستی چھوڑی نہیں جاتی
لڑکیاں اپنی سہیلیوں کو کارڈز کے ساتھ کوئی چھوٹا سا گفٹ بھی لفافے میں رکھ دیتیں جو وہ اپنی قریبی سہیلیوں کو دیتی تھیں۔
ڈبے میں ڈبہ ڈبے میں کیک
میری سہیلی لاکھوں میں ایک
یہ اس دور کا سب سے مشہور شہر ہوا کرتا تھا جو ہر شخص اپنے رشتے اور تعلق کے حوالے سے تبدیل کرلیا کرتا تھا، مثلاً
ڈبے میں ڈبہ ڈبے میں کیک
میرا بھائی لاکھوں میں ایک
یا میری بیگم لاکھوں میں ایک ۔۔۔ یا میرا دوست لاکھوں میں ایک ۔
کچھ شرارتی اشعار ہوا کرتے جیسے:
سویاں پکی ہیں، سب نے چکھی ہیں
تم کیو روتے ہو، تمہارے لیے بھی رکھی ہیں
دوستوں کی اہمیت کا اظہار اکثر اس طرح بھی کیا جاتا:
روشنی چاند سے ہوتی ہے ستاروں سے نہیں
دوستی ایک سے ہوتی ہے ہزاروں سے نہیں
بچوں کے میسیج بہت معصومانہ ہوتے جیسے:
چاول چنتے چنتے نیند آگئی
صبح اٹھ کر دیکھا تو عید آگئی ۔۔۔
چِڑیوں کی عید ہوتی ہے گندم کے دانے سے
میری عید ہوتی ہے تمہارے مسکرانے سے
کچھ شرارتی دوستوں کے شعر اس طرح بھی ہوا کرتے تھے:
ڈبے میں ڈبہ، ڈبے میں تالا
سب لڑکیوں نے مجھے بھائی ہی بنا ڈالا
اور یوں یہ عید حقیقتاً محبتوں اور سچی خوشیوں کی عید ہواکرتی تھی، جس میں تعلق اور رشتوں کو خاص اہمیت حاصل تھی۔
پھر آیا ڈیجیٹل دور، ڈیجیٹل انقلاب، جین زی کا دور اور ہاتھوں میں اینڈرائیڈ موبائلزکا دور، اور پھر وقت کے ساتھ سب کچھ بدلتا چلا گیا۔
جین زی کے ڈیجیٹل دور میں عید
ڈیجیٹل دور نے زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کیا، اور عید بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکی۔ عید کارڈز کی جگہ موبائل میسیجز نے لے لی۔ ایک ہی پیغام لکھ کر درجنوں لوگوں کو بھیج دینا معمول بن گیا۔ پھر یہ بھی بدل کر صرف واٹس ایپ اسٹیٹس اور سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ تک محدود ہو گیا۔
اب نئی نسل کی ایکٹیوٹیزموبائل اسکرینز پر گزرتی ہے۔ نوجوان نسل، خاص طور پر جین زی، اپنی تیاریوں کو انسٹاگرام ریل، یوٹیوب شورٹس ، یا واٹس ایپ اسٹیٹس اور فیس بک پر وڈیو کی شکل میں شیئر کرنے میں مصروف نظر آتی ہے۔ ان کے لیے عید کی خوشی کا ایک حصہ ویوز، لائکس اور کمنٹس بن چکے ہیں اور ان ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کو وہ جانتے بھی نہیں اور یہ سب آج کے دور کا ”فن“ کہلاتا ہے۔
قریبی یا حقیقی دوستی یا سچے تعلقات کیا ہوتے ہیں، یہاں ایک خلا محسوس ہوتا ہے۔
گھر کی وہ رونقیں جو پہلے ہوا کرتی تھیں اب ویسی نہیں رہیں۔
اب بیشمار گھروں میں نماز سے واپس آکر سب سوجاتے ہیں۔ نہ وہ بہن بھائیوں کی شرارتیں، ہنسی مزاق، نہ ہی وہ بڑوں سے اور بزرگوں سے دعاؤں کا سلسلہ، سب کہیں گم ہوگیا۔ اپنے کمرے ہیں اور اپنی دنیا ہے۔
گو کہ جین زی کے لیے یہ تبدیلی فطری ہے کیونکہ وہ ایک ایسی دنیا میں پروان چڑھے ہیں جہاں ہر چیز تیز، فوری اور آن لائن ہے۔
اس ’ڈیجیٹل آسانی‘ کے باوجود ایک خلا ضرور محسوس ہوتا ہے۔ عید کارڈز کی وہ خوشبو، ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر، اور لفافہ کھولنے کا تجسس اب صرف یادوں میں باقی رہ گیا ہے۔ پہلے جذبات کو محفوظ کیا جاتا تھا، وہ لکھے ہوئے کارڈز سالوں رکھے جاتے تھے۔ آج وہ اسکرین پر آتے ہیں، تھبز اپ، ا ایموجی یا فارورڈ میسیج بھجے جاتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں ڈیٹا کو صاف کرنے کی غرض سے ڈیلیٹ بھی کردیے جاتے ہیں۔ یعنی جس تیزی سے یہ مبارکبادیں آتی ہیں اسی تیزی چلی بھی جاتی ہیں، محو ہوجاتی ہیں۔
ہر دور کی اپنی خوبصورتی ہوتی ہے، آج کا ڈیجیٹل زمانہ ہمیں دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے اپنے پیاروں سے جوڑ دیتا ہے، جو پہلے ممکن نہیں تھا۔ بس تڑپ تھی، اپنوں سے ملنے اور چہرہ دیکھنے کی آرزو ہو اکرتی تھیں۔
شاید اس ڈیجیٹل دور میں اصل ضرورت توازن کی ہے۔ کبھی ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ، ایک ملاقات، یا ایک چھوٹا سا گفٹ بھی وہ احساسات واپس لا سکتے ہیں جو ہم نے کہیں پیچھے چھوڑ دیے ہیں۔
























