بولی ووڈ فلم ’دھرندھر2‘ باکس آفس پر خوب دھوم مچا رہی ہے اور ناقدین اور ناظرین دونوں نے اسے بہت پسند کیا۔ لیکن کچھ سائیڈ کیریکٹرز کی کہانیاں اب بھی ادھوری ہیں اور کئی سوالات ذہن میں چھوڑ گئی ہیں۔
پہلی فلم ’دھرندھر‘ نے پچھلے سال دسمبر میں باکس آفس پر بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی اور ہندوستان کی تاریخ کی چوتھی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن گئی۔
سیکوئل نے 19 مارچ کو ریلیز ہوتے ہی زیادہ تر ریکارڈ توڑ دیے، لیکن اس کے ساتھ کچھ کہانی کے دھاگے نامکمل رہ گئے۔
یہ فلم صرف ایک بڑی تجارتی فلم نہیں بلکہ ایک سنسنی خیز جاسوسی فلم بھی ہے۔ ناظرین کے لیے یہ ایک دلچسپ اور تھرل بھرا تجربہ ہے۔
لیکن کچھ سائیڈ کیریکٹرز کی کہانیاں مکمل نہیں ہوئیں اور یہی چیزیں ناظرین کے ذہن میں سوالات چھوڑ جاتی ہیں۔
اگلے حصے میں ہم دیکھیں گے وہ پانچ بڑے سوالات جو ’دھرندھر2‘ میں ابھی جواب طلب ہیں۔
رحمان ڈکیت کے خاندان کا انجام کیا ہوا؟
’دھرندھر‘ کے اختتام پر رحمان ڈکیت کے خاندان کا اس طرح غائب ہو جانا کہانی کا وہ پہلو ہے جو کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ رحمان بلوچ جیسے طاقتور کردار، جسے ”شیرِ بلوچ“ کہا جاتا تھا کے خاندان کا منظر نامے سے اچانک ہٹ جانا کہانی کی ترتیب میں ایک خلا محسوس ہوتا ہے۔
پہلے حصے میں جس بیٹے کی زندگی بچا کر حمزہ علی مزاری نے رحمان کا بھرپور اعتماد جیتا تھا، رحمان کی موت کے بعد وہی بیٹا اور اس کی بیوہ الفت (سومیا ٹنڈن) کہانی سے مکمل طور پر غائب کر دیے گئے۔
فلم کے دوسرے حصے میں یہ خاندان صرف جنازے کے ایک مختصر سے منظر میں نظر آتا ہے، جہاں الفت کا حمزہ کو مارا گیا تھپڑ ایک طاقتور احتجاج تو تھا مگر اس کے بعد وہ دونوں کہانی سے ہمیشہ کے لیے غائب ہو گئے۔
کیا رحمان کے وفاداروں نے اس کے خاتمے کے بعد اس کے وارث سے آنکھیں پھیر لیں یا الفت نے اپنے بیٹے کو جرائم کی اس دنیا سے دور رکھنے کے لیے خود گمنامی کا راستہ چنا؟
کہانی میں برسوں کا وقت گزرنے کے باوجود رحمان کے جوان بیٹے کا کوئی ذکر نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فلم سازوں نے اس کردار کے باب کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ناظرین کو ان کے انجام کے بارے میں کوئی ٹھوس جواب نہیں مل سکا۔
جسکرت کے گھر والوں نے اسے دروازے کے قریب کیوں نہیں دیکھا؟
فلم کا وہ جذباتی منظر جب جسکرت (رنویر سنگھ) اپنے گھر واپس آتا ہے اوراپنے گھر کے گیٹ پر کھڑا اپنی فیملی کو دور سے دیکھتا ہے، اپنی جگہ بہت پراثر ہے، لیکن یہ کچھ سوالات بھی کھڑا کرتا ہے۔
رنویر سنگھ کی شاندار اداکاری نے اس سین میں جان تو ڈال دی، مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ گھر میں موجود کسی بھی فرد کی نظر ان پر کیوں نہیں پڑی۔
جسکرت ایک بڑے قد کا آدمی ہے، اس نے جامنی رنگ کا سوٹ اور پگڑی پہنی ہوئی ہے، جو ارد گرد کے سبزے اور کھلے ماحول میں بالکل نمایاں تھے، جس کی وجہ سے ان کا نظر نہ آنا ناممکن سا لگتا ہے۔
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ گھر کا صحن کافی کھلا ہے اور گھر والے گیٹ کے بالکل قریب ہی چل پھر رہے ہیں، پھر بھی کسی کا انہیں نوٹس نہ کرنا حقیقت سے دور نظر آتا ہے۔
یہ واضح طور پر ایک ایسی ’فلمی چھوٹ‘ ہے جو صرف ڈرامائی کیفیت اور جذبات کو بڑھانے کے لیے لی گئی ہے، لیکن حقیقت پسند ناظرین کے لیے یہ ایک ایسا سوال چھوڑ جاتی ہے جس کا کہانی میں کوئی ٹھوس جواب موجود نہیں ہے۔
رضوان کا انجام: ایک ادھورا کردار؟
فلم ’دھرندھر2‘ میں مصطفیٰ احمد کا نبھایا گیا ’رضوان‘ کا کردار محض ایک معمولی ساتھی کا نہیں تھا، بلکہ وہ کہانی کے اہم موڑ پر حمزہ کا دستِ راست بن کر ابھرا۔
پوری فلم میں اس کی وفاداری اور اقدامات نے کہانی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن حیرت انگیز طور پر فائنل جنگ کے بعد اس کے انجام کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں بتائی گئی۔
جہاں فلم کے اختتام پر تمام بڑے کرداروں کو ان کے انجام تک پہنچایا گیا، وہیں رضوان کو حمزہ صرف ”خدا حافظ“ کہتا ہے اور اس کے بعد وہ کہانی سے غائب ہوجاتا ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ دوبارہ کسی خفیہ مشن پر چلا گیا یا اپنی پہچان بدل کر کہیں روپوش ہو گیا۔
ایک ایسا کردار جو کہانی کے کلائمکس میں اتنا اہم تھا، اس کا یوں اچانک غائب ہونا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے فلم سازوں کے پاس اس کے کردار کو منطقی انجام تک پہنچانے کا وقت ہی نہیں بچا تھا۔
محمد عالم: بریلی کے جیب کترے سے بھارتی جاسوس تک کا سفر
فلم ’دھرندھر2‘ میں گوراو گیرا کا نبھایا گیا ’محمد عالم‘ کا کردار مختصر ہونے کے باوجود دل جیت لینے والا ہے۔ عالم وہ شخص تھا جس نے پاکستان میں حمزہ کے ابتدائی دو سالوں میں اس کا بھرپور ساتھ دیا اور خاموشی سے پسِ منظر میں رہ کر حمزہ کی مدد کرتا رہا۔
ایک منظر میں حمزہ اپنی کہانی بتاتے ہوئے عالم سے اس کی زندگی کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ عالم کہتا ہے، ”کسی اور دن کی کہانی ہے، آج تیرا دن ہے۔“ مگر وہ دن کبھی نہیں آتا۔ آخر میں عالم اپنی جان قربان کر دیتا ہے۔
اگرچہ فلم میں وقت کی کمی کی وجہ سے اس کے ماضی کو تفصیل سے نہیں دکھایا گیا، مگر ایک ایسے وفادار ساتھی کی قربانی یہ احساس ضرور دلاتی ہے کہ اس کے کردار پر ایک الگ فلم یا ’اسپن آف‘ بننا چاہیے، تاکہ ناظرین جان سکیں کہ بریلی کی گلیوں کا ایک معمولی جیب کترا ایک نڈر جاسوس کیسے بنا۔
یامی گوتم کا کردار: پرانی پہچان یا نیا روپ؟
فلم ’دھرندھر2‘ میں یامی گوتم کا مختصر مگر دھماکہ خیز انٹری مداحوں کے لیے ایک بڑا معمہ بن گیا ہے۔ وہ اس فلم میں ’شازیہ بانو‘ نامی ایک نرس کے روپ میں نظر آتی ہیں جو حمزہ کی ہٹ لسٹ پر موجود ایک شخص کو ٹھکانے لگاتی ہیں۔
چونکہ اس فلم کے ہدایت کار آدتیہ دھر ہیں، جنہوں نے ’اُری: دی سرجیکل اسٹرائیک‘ بھی بنائی تھی، اس لیے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یامی یہاں وہی پرانا ’را‘ ایجنٹ والا کردار نبھا رہی ہیں اور ’شازیہ بانو‘ محض ان کا ایک فرضی نام ہے؟
فلم ’دھرندھر2‘ نے بلاشبہ ایک بہترین جاسوسی تھرلر کے تمام تقاضے پورے کیے اور شائقین کو سحر زدہ کر دیا، لیکن فلم کے اختتام کے بعد بھی کئی ایسے سوالات باقی ہیں جو ناظرین کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ادھورے پہلو اور خاموش کردار کسی نئی کہانی یا ’اسپن آف‘ کا انتظار کر رہے ہیں۔ چاہے ان سوالات کے جوابات مستقبل میں کسی اگلے حصے میں ملیں یا یہ ’دھرندھر‘ کی پراسراریت کا حصہ بن کر رہ جائیں، ایک بات تو طے ہے کہ اس فلم نے مداحوں کو بحث کرنے، تفریح منانے اور تجسس میں رہنے کا بھرپور مواد فراہم کیا ہے۔
























