پاکستانی ماڈل زینب یوسف نے نوجوان لڑکیوں کو ’شوگر ڈیڈیز‘ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایسے مشورے دیے ہیں جن پر سوشل میڈیا صارفین شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں ماڈل نے ان رشتوں کو جذباتی وابستگی کے بجائے خالصتاً ”تجارتی بنیادوں“ پر استوار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ ’شوگر ڈیڈی‘ کی اصطلاح ایسے عمر رسیدہ اور دولت مند شخص کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو کسی نوجوان کو مالی مدد یا قیمتی تحائف فراہم کرتا ہے اور بدلے میں رومانوی یا وقت گزاری کا تعلق قائم رکھتا ہے۔
ایسے بیانات معاشرتی اقدار پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ زینب یوسف اس وقت کڑی تنقید کی زد میں ہیں۔
زینب یوسف کا کہنا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو شوگر ڈیڈی کے ساتھ تعلق کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے اور نہ ہی ان کے ساتھ شادی کے خواب دیکھنے چاہئیں۔
ان کے بقول بعض لڑکیاں شوگر ڈیڈی کے ساتھ تعلقات کو سنجیدگی سے لے لیتی ہیں اور انہیں شادی کی نظر سے دیکھتی ہیں اور جب یہ خواب پورے ہوتے دکھائی نہیں دیتے تو پھر وہ غلط راستے پر نکل جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا ’شوگر ڈیڈی کو کبھی سنجیدگی سے نہ لیں اور نہ ہی محبت میں پڑیں، کیونکہ اکثر وہ پہلے سے شادی شدہ اور بچوں والے ہوتے ہیں۔اس لیے جتنا ہو سکے ان سے مالی فائدہ اٹھائیں۔‘
زینب یوسف نے مزید کہا کہ نوجوان لڑکیوں کو تحائف لینے کے بجائے کیش کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ مالی خودمختاری برقرار رہے۔
ان کے مطابق قیمتی بیگز یا پرفیوم جیسی اشیاء وقتی فائدہ دیتی ہیں، جبکہ کیش زیادہ کارآمد ہوتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ قیمتی اشیاء کی عادت لڑکیوں کو اس وقت مشکل میں ڈال دیتی ہے جب وہ شخص دستیاب نہ ہو۔
انہوں نے شوگر آنٹیوں کی ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے ایک جاننے والے کو ’شوگر آنٹی‘ کی طرف سے ملی ہوئی لگژری گاڑی تعلق ختم ہونے پر واپس کرنی پڑی، جس نے ان کے لائف اسٹائل کو بری طرح متاثرکیا۔
زینب یوسف کے ان بیانات نے انٹرنیٹ صارفین کو آگ بگولہ کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین اسے اخلاقی گراوٹ کی انتہا قرار دے رہے ہیں۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا: ”یہ ہمارے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ نوجوان نسل کو کس قسم کے راستے دکھائے جا رہے ہیں۔“ جبکہ ایک اور صارف نے اسے ”شرمناک اور غیر ذمہ دارانہ“ بیان قرار دیا۔
























