جدید طبی تحقیقات نے وزن کم کرنے کے روایتی تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ تحقیق نے وزن کم کرنے کے روایتی تصورات کو چیلنج کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ صرف کیلوریز گننا کافی نہیں، بلکہ کھانے کے اوقات اور اسے چبانے کا انداز انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

برطانیہ کی ”یونیورسٹی آف سَرے“ میں ہونے والی ’ایک سائنسی تحقیق‘ نے وزن کم کرنے کے روایتی طریقوں کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ ’جرنل آف نیوٹریشنل سائنس‘ میں شائع ہونے والے اس مطالعے کے مطابق، خوراک کی مقدار کم کرنے کے بجائے صرف اس کے اوقات میں تبدیلی لانے سے انسانی جسم کے میٹابولک نظام اور چربی گھلانے کی صلاحیت پر حیرت انگیز اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ جتنی توانائی ہم خوراک کے ذریعے حاصل کرتے ہیں، اگر اسے ورزش یا جسمانی مشقت کے ذریعے بَرن کردیں تو وزن قابو میں رہتا ہے، لیکن انسانی جسم کا نظام اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر غذا ہمارے جسم میں ایک جیسا ردعمل پیدا نہیں کرتی۔

لندن کے کنگز کالج کی تحقیق کے مطابق، ہر انسان کا نظامِ انہضام (میٹابولزم) مختلف ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک ہی قسم کی غذا دو الگ افراد پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہے اور ان کے میٹابولک عمل میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔

وزن کو متوازن رکھنے میں صرف یہ اہم نہیں کہ ہم کیا کھا رہے ہیں، بلکہ یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ ’ہم کس وقت‘ کھا رہے ہیں۔

انسانی جسم کے اندر ایک قدرتی گھڑی کام کرتی ہے جسے سرکیڈین ردھم (Circadian Rhythm) کہا جاتا ہے، جو ہمارے ہاضمے اور توانائی کے استعمال کو کنٹرول کرتی ہے۔ جدید علمِ غذائیت، جسے ”کرونو نیوٹریشن“ کہا جاتا ہے، یہ بتاتا ہے کہ کھانے کے اوقات میں تبدیلی لاکر ہم اپنے جسمانی وزن پر حیرت انگیز اثرات ڈال سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر، جو لوگ اپنے دن بھر کی زیادہ تر کیلوریز ناشتے میں حاصل کرتے ہیں، وہ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے وزن کم کرتے ہیں جو ’رات کے وقت بھاری کھانا‘ کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔

کھانے کے دورانیے کو محدود کرنا صحت مند طرزِ زندگی کا ایک اہم جزو بن چکا ہے۔

برطانیہ میں ہونے والی اِس ’پائلٹ اسٹڈی کے نتائج‘ سے یہ ثابت ہوا کہ وزن کم کرنے کے لیے صرف کیلوریز گننا ہی کافی نہیں بلکہ کھانے کے اوقات میں تبدیلی بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

اگر ہم اپنے ناشتے میں تھوڑی تاخیر کریں اور رات کا کھانا معمول سے جلد کھا لیں، تو جسم کو اپنی توانائی بحال کرنے اور چربی جلانے کا زیادہ وقت مل جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران جب شرکاء نے اپنے ناشتے میں 90 منٹ کی تاخیر کی اور رات کا کھانا معمول سے 90 منٹ پہلے کھایا، تو ان کے کھانے پینے کے مجموعی دورانیے میں 3 گھنٹے کی کمی واقع ہوئی۔ اس سادہ سی تبدیلی کے نتیجے میں نہ صرف ان کی بھوک میں قدرتی کمی آئی بلکہ ان کے جسمانی چربی کے تناسب میں بھی واضح گراوٹ دیکھی گئی۔

یہ مطالعہ اس سائنسی حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ انسانی میٹابولزم مخصوص اوقات میں زیادہ فعال ہوتا ہے، اور کھانے کے دورانیے کو محدود کر کے ہم بغیر کسی سخت ڈائیٹنگ کے اپنے وزن کو مؤثر طریقے سے قابو کر سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی اسپین میں ہونے والی ایک تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ دوپہر کا کھانا وقت پر کھانے والے افراد ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ دبلے رہتے ہیں جو سہ پہر تین بجے کے بعد کھانا کھاتے ہیں۔

خوراک کی قسم کے ساتھ ساتھ اسے کھانے کا انداز بھی ہمارے نظامِ ہاضمہ پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ہم اپنی غذا کو کتنا چباتے ہیں اور اسے کتنی تیزی سے حلق سے نیچے اتارتے ہیں، یہ عوامل اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ ہمارا جسم اس غذا سے کتنی توانائی حاصل کرے گا۔

اس کے علاوہ ہمارے آنتوں میں موجود خردبینی جاندار یعنی ’مائیکروبز‘ بھی اس عمل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا، صحت مند رہنے کے لیے صرف کیلوریز کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنی کھانے کی عادات، اوقات اور خوراک کے معیار پر توجہ دینا زیادہ دانشمندانہ اور موثر حکمت عملی ہے۔

More

Comments
1000 characters