ایک ایسے دور میں جہاں وقت دیکھنے کے لیے اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس اور یہاں تک کہ باتھ روم کے آئینوں میں بھی ڈیجیٹل ڈسپلے موجود ہے، نئی نسل یعنی ’جنریشن زی‘ روایتی کلائی گھڑیوں کی دیوانی ہوتی جا رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2005 میں جس دور کو گھڑیوں کے زوال کا وقت کہا جا رہا تھا، آج وہی گھڑیاں نوجوانوں کے لیے محض ضرورت نہیں بلکہ ایک ’مقدس فن پارے‘ کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔
یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ یوٹیوبر ایون فرائی اس بدلتے ہوئے رجحان کی ایک جیتی جاگتی مثال ہیں۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق 2003 میں پیدا ہونے والے ایون کے پاس اب تک 35 سے زائد قیمتی گھڑیاں موجود ہیں۔ ان کے مجموعے کا سب سے بیش قیمت شاہکار ’ٹیگ ہیور کیریرا‘ ہے، جو انہوں نے ہالی ووڈ اسٹار ریان گوسلنگ سے متاثر ہو کر خریدا۔
ایون کا کہنا ہے کہ ”گھڑیاں کسی انسان کی زندگی کی سچی ساتھی ہوتی ہیں، ان میں تاریخ اور یادیں سانس لیتی ہیں۔“
لگژری گھڑیوں کے ری سیل پلیٹ فارم ’بیزل‘ کے مطابق کمپنی کی کل فروخت کا ایک تہائی حصہ (33%) 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔
یہ طبقہ نہ صرف گھڑیاں خرید رہا ہے بلکہ ایک ہی گھڑی پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرنے والا گروپ بن چکا ہے۔
’کرونو 24‘ کے ڈیٹا کے مطابق، کلاسک ڈریس واچز (سادہ اور نفیس ڈیزائن) کی خریداری میں 2018 سے اب تک 44 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ چونکہ یہ نسل مکمل طور پر ڈیجیٹل ماحول میں پلی بڑھی ہے، اس لیے ان میں ایسی چیزوں کی تڑپ زیادہ ہے جنہیں چھوا جا سکے اور جو پائیدار ہوں۔
’ٹیا کلیکٹو‘ کی مالکہ ڈاہین لی کا کہنا ہے کہ نوجوان اکثر ایسی گھڑیاں تلاش کرتے ہیں جو ان کی دادی یا نانی پہنا کرتی تھیں۔ یہ ان کے لیے ایک ایسی ماضی کی یاد ہے جس کا وہ خود حصہ نہیں رہے، لیکن وہ اس احساس سے جڑنا چاہتے ہیں۔
آج کل کی گھڑیوں کی دنیا میں ’مردانہ‘ اور ’زنانہ‘ کی تفریق ختم ہوتی جا رہی ہے۔
ایون فرائی بتاتے ہیں کہ انہوں نے چھوٹی اور نازک گھڑیاں پہننا تب شروع کیا جب معروف اداکار ’تیموتھی شالامے‘ کو کارٹئیر پینتھر پہنے دیکھا۔
آسکرز اور دیگر تقریبات میں جب بڑے ستارے خواتین کے ڈیزائن والی گھڑیاں پہن کر جلوہ گر ہوتے ہیں، تو اگلے ہی دن دکانوں پر ان ڈیزائنز کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
حیران کن طور پر، اس نسل کے لیے گھڑی کا بنیادی مقصد وقت بتانا نہیں رہا۔ ڈاہین لی کے مطابق، کچھ نوجوان ایسی گھڑیاں بھی خرید لیتے ہیں جو کام نہیں کرتیں، کیونکہ وہ اسے ایک خوبصورت ’بریسلٹ‘ یا زیور کے طور پر پہننا چاہتے ہیں۔
بہت سے 14-15 سالہ نوجوان گھڑی تو خرید لیتے ہیں لیکن فخر سے کہتے ہیں، ”ہمیں تو سوئیوں والی گھڑی سے وقت دیکھنا ہی نہیں آتا۔“
گھڑیوں کی یہ نئی لہر ثابت کرتی ہے کہ اسمارٹ واچز اور اسمارٹ فونز کے اس دور میں بھی، مکینیکل اور کلاسک ڈیزائنز کی اپنی ایک الگ کشش ہے جو نسلوں کے فرق کو مٹا رہی ہے۔
























