بولی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور نے اپنی والدہ اور ماضی کی سپر اسٹار سری دیوی کے بارے میں ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔
سری دیوی کامیاب اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مثالی ماں بھی تھیں جواپنی بیٹیوں جھانوی کپور اور خوشی کپور سے بہت محبت کرتی تھیں۔ انہیں جھانوی کی پہلی فلم ’دھڑک‘ کی ریلیز کا شدت سے انتظار تھا لیکن بدقسمتی سے فلم ریلیز ہونے سے پہلے ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
راج شمانی کے ساتھ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جھانوی کپور نے لیجنڈری اداکارہ کی زندگی کے مشکل پہلووں پر روشنی ڈالی۔
جھانوی کپورنے بتایا کہ انہوں نے خود دیکھا کہ کس طرح ْان کی والدہ کو اپنے دور میں عوامی تنقید اور سخت رویوں کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ انہیں ”گھر توڑنے والی“ جیسے القابات بھی دیے گئے، جس نے انہیں ذہنی طور پر بہت متاثر کیا تھا اوریہ اثر ان کے اندر بھی منتقل ہوگیا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ لوگ مرنے والے کے بارے میں نرم رویہ اختیار کر لیتے ہیں، مگر جیتے جی انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی تکلیف وہ فرد ہی جان سکتا ہے۔
جھانوی نے کہا کہ 2018 میں اپنی والدہ کو کھونا ان کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تھا، خاص طور پر اس وقت جب ان کی پہلی فلم ’دھڑک‘ ریلیز ہونے والی تھی۔ اس حادثے کے بعد انہیں کم عمری میں ہی خودمختار بننا پڑا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی پہلی فلم ’دھڑک‘ کی ریلیز سے چند ماہ قبل ہی سری دیوی کا انتقال ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنی بیٹی کی کامیابی دیکھ نہ سکیں۔
اداکارہ نے اعتراف کیا کہ ماں کے انتقال کے بعد انہوں نے جلد بازی میں کچھ ایسے فیصلے کیے جنہوں نے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو متاثر کیا۔ تاہم ان تجربات نے انہیں زندگی کے اہم سبق بھی سکھائے۔
انہوں نے کہا کہ سری دیوی کی وفات کے بعد صرف ماں ہی نہیں بلکہ اپنے والد بونی کپور کی وہ شخصیت بھی کھو دی جو ان کی موجودگی میں تھی۔
ان کے مطابق ان کی والدہ کا مزاج اور خاندان کو جوڑ کر رکھنے کا انداز آج بھی یاد آتا ہے۔
جھانوی کا کہنا تھا کہ اگر زندگی میں انہیں اپنی والدہ سے بات کرنے کا موقع ملے تو وہ ان کی جدوجہد کو نہ سمجھنے پر معافی مانگیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ سری دیوی نے کم عمری میں کام شروع کیا اور اپنا کیریئر بنانے کے لیے سخت محنت کی، مگر ہمیشہ بچوں کے سامنے اپنی زندگی کے خوشگوار پہلو ہی رکھے۔
























