دنیا بھر میں بچوں کی پیدائش کی شرح میں تیزی سے کمی دیکھی جا رہی ہے اور اب محققین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کہیں اس کی ایک بڑی وجہ اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا تو نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی، رہائش کے مسائل، دیر سے شادیاں اور کیریئر کے دباؤ جیسے عوامل پہلے ہی شرح پیدائش میں کمی کی بڑی وجوہات سمجھے جاتے تھے، لیکن اب ٹیکنالوجی کے انسانی تعلقات پر اثرات بھی تحقیق کا اہم موضوع بنتے جا رہے ہیں۔
کئی برسوں تک ماہرین سمجھتے رہے کہ بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت، مہنگے گھر، بدلتے سماجی رویے اور ملازمت کے مسائل اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اگرچہ یہ عوامل اب بھی اہم ہیں، لیکن اب تحقیق کا رخ اس جانب بھی ہو گیا ہے کہ اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے انسانی تعلقات اور روزمرہ زندگی کو کس حد تک بدل دیا ہے۔
فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف سِنسِناٹی کے محققین نیتھن ہڈسن اور ہرنان موسکوسو بوئیڈو نے امریکا اور برطانیہ میں شرح پیدائش اور فور جی موبائل انٹرنیٹ کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں سامنے آیا کہ جہاں تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ پہلے پہنچا وہاں شرح پیدائش میں کمی بھی جلد اور زیادہ تیزی سے شروع ہوئی۔
محققین کا خیال ہے کہ اسمارٹ فونز نے نوجوانوں کے ایک دوسرے سے ملنے جلنے کے طریقے کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ لوگ زیادہ وقت آن لائن گزارنے لگے جبکہ آمنے سامنے ملاقاتوں اور سماجی سرگرمیوں میں کمی آئی۔ تحقیق کے مطابق یہی تبدیلی شرح پیدائش میں کمی کی ایک ممکنہ وجہ بن سکتی ہے۔
یہ رجحان صرف امریکا اور برطانیہ تک محدود نہیں دکھائی دیتا۔ فنانشل ٹائمز کے تجزیے کے مطابق کئی ممالک میں شرح پیدائش میں نمایاں کمی تقریباً اسی دور میں شروع ہوئی جب اسمارٹ فونز عام ہونا شروع ہوئے۔ امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں 2000 کی دہائی کے آغاز تک نوجوانوں میں شرح پیدائش نسبتاً مستحکم رہی، لیکن 2007 کے بعد اس میں واضح کمی دیکھی گئی، جب اسمارٹ فونز اور موبائل ایپس تیزی سے مقبول ہوئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر افراد میں یہ کمی زیادہ دیکھی گئی، اور یہی عمر کے وہ طبقات ہیں جو سب سے زیادہ اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔
فن لینڈ کی ماہر شماریات اینا روٹکرچ کے مطابق نوجوانوں میں سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ازدواجی تعلقات میں جنسی مسائل سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا طویل مدتی تعلقات کو قائم رکھنا مشکل بنا سکتا ہے کیونکہ لوگ مسلسل دوسروں کی خوبصورت اور بظاہر کامیاب زندگیوں کو دیکھتے رہتے ہیں، جس سے احساسِ عدم تحفظ، مالی پریشانی اور سماجی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
کچھ محققین کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پہلے سے موجود خدشات جیسے مالی مسائل، ملازمت کا دباؤ اور گھر خریدنے کی مشکلات کو مزید بڑھا دیتے ہیں، جس کے باعث نوجوان خود کو والدین بننے کے لیے تیار محسوس نہیں کرتے۔
اس سے پہلے بھی تحقیق میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ میڈیا خاندانی فیصلوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔ بعض مطالعات میں پایا گیا کہ ٹی وی ڈراموں میں چھوٹے خاندان دکھائے جانے کے بعد خواتین نے کم بچے پیدا کرنے کا رجحان اپنایا۔ ایک اور تحقیق کے مطابق جن گھروں میں ٹی وی موجود تھا وہاں میاں بیوی کے درمیان جسمانی تعلقات کی شرح نسبتاً کم دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فونز کا اثر ٹی وی سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ زیادہ ذاتی، ہر وقت ساتھ رہنے والی اور زیادہ وقت لینے والی ٹیکنالوجی ہے۔
اگرچہ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شرح پیدائش میں کمی کی واحد وجہ ٹیکنالوجی نہیں، لیکن اب بہت سے محققین کا ماننا ہے کہ اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا اس عالمی آبادیاتی تبدیلی کو مزید تیز کر رہے ہیں جو پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔
























