بھارتی ٹیلی ویژن اور فلموں کی معروف اداکارہ ایوا گروور نے عامر خان کے سوتیلے بھائی حیدر علی خان کے ساتھ اپنی تلخ اور ناکام شادی کے بارے میں مزید سنسنی خیز اور جذباتی انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح انہیں اپنی شادی کے دوران شدید مشکلات اور گھریلو تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہوں نے کئی سال بعد رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایوا گروور نے اپنی زندگی کے اس دور کو یاد کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہیں نوعمری ہی سے شادی کا شدید شوق تھا جو وقت کے ساتھ ایک جنون بن گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جنون تب شروع نہیں ہوا جب میں 26 یا 27 سال کی تھی، بلکہ یہ تب کا ہے جب میں صرف 15 یا 16 سال کی تھی۔ ایوا کا خیال تھا کہ ان کی زندگی کسی پریوں کی کہانی جیسی رومانوی ہوگی جہاں بچے اور ایک پیارا خاندان ہوگا، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔

اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے صرف 18 دن کی جان پہچان کے بعد حیدر علی خان سے شادی کا بڑا فیصلہ کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ میں نے انہیں صرف 18 دن ڈیٹ کیا تھا اور اتنے کم وقت میں آپ کسی انسان کو نہیں جان سکتے۔ اب جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ سارا قصور صرف ان کا ہی نہیں تھا، شاید کچھ غلطی میری بھی تھی کیونکہ وہ فیصلہ بہت جلد بازی میں لیا گیا تھا۔

انہوں نے خاندان کی مخالفت کے باوجود بھاگ کر شادی کی انہوں نے بتایا کہ حیدر نے مجھے پروپوز کیا، میں نے اپنی ماں یا کسی اور کی ایک نہ سنی اور گھر چھوڑ کر ان کے ساتھ بھاگ گئی۔ اس وقت میرا کیریئر عروج پر تھا، ہم دونوں کا تعلق الگ الگ مذاہب سے تھا، لیکن 19 ویں دن ہم نے شادی کر لی۔

ادا کارہ کے مطابق شادی کے بعد بہت جلد معلوم ہو گیا کہ جس شخص سے انہوں نے شادی کی ہے وہ ان کی توقعات کے مطابق نہیں۔ انہوں نے کہا، “میں نے جلد ہی سمجھ لیا کہ وہ وہ انسان نہیں ہیں جسے میں نے تصور کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلا مسئلہ ان کے غصے کا تھا، ان کا غصہ میری سوچ سے بھی کہیں زیادہ تھا، میں نے زندگی میں کبھی ایسا جارحانہ رویہ نہیں دیکھا تھا کیونکہ میری پرورش کے دوران ہمارے گھر میں کوئی مرد نہیں تھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے شوہر ان پر ہاتھ بھی اٹھاتے تھے، تو انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ہاں، وہ پرتشدد انسان تھے، میں کسی خاص دن کا ذکر نہیں کرنا چاہتی لیکن ہاں، وہ میرے ساتھ جسمانی طور پر تشدد کرتے تھے۔

اس شدید ظلم کے باوجود ایوا سالہا سال اس رشتے کو نبھاتی رہیں جس کی وجہ ان کی محبت اور خود کو قصوروار سمجھنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میں اس لیے رکی رہی کیونکہ میں اس سے پیار کرتی تھی، لیکن مجھے مسلسل یہ احساس دلایا جاتا تھا کہ غلطی میری ہی ہے۔ مجھے کہا جاتا تھا کہ میں ہی مسئلہ ہوں، میں نااہل ہوں اور چیزوں کو صحیح طریقے سے سنبھال نہیں سکتی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان دنوں ذہنی صحت کے بارے میں اس طرح باتیں نہیں ہوتی تھیں جیسی آج ہوتی ہیں، اس لیے مدد مانگنا اور بھی مشکل تھا۔

شادی کے چار سال بعد انہوں نے اس امید پر بچے کو دنیا میں لانے کا فیصلہ کیا کہ شاید حالات سدھر جائیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چار سال بعد میں نے حاملہ ہونے کا فیصلہ کیا کیونکہ میرا سچ مچ یہ ماننا تھا کہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔ ہمارے ملک میں بہت سے لوگوں کو یہی سکھایا جاتا ہے کہ ایک بچہ خراب شادی کو بچا سکتا ہے، لیکن شدید حالات میں یہ طریقہ کام نہیں کرتا۔ انہوں نے حمل کے دوران بھی کام جاری رکھا مگر حالات نہیں بدلے۔

آخر کار بیٹی کی پیدائش ان کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ ثابت ہوئی۔ ایوا نے بتایا کہ بیٹی کی پیدائش کے ایک مہینے کے اندر ہی میری برداشت جواب دے گئی اور میں اس ماحول میں مزید نہیں رہ سکتی تھی۔ اس وقت وہ ایک ڈرامے کی شوٹنگ کر رہی تھیں جہاں ان کے ساتھیوں نے ان کی تکلیف کو بھانپ لیا۔

انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک دن ڈرامے کی پوری ٹیم نے فیصلہ کیا کہ وہ میری مدد کریں گے، وہ سب میرے گھر آئے، میری ماں سے بات کی اور مجھے اس صورتحال سے نکلنے کا حوصلہ دیا۔ ان سب کی وجہ سے میں نے آخر کار اپنی ماں سے بات کی اور میری ماں نے کھلے دل سے مجھے دوبارہ اپنے گھر میں خوش آمدید کہا۔

ایوا نے اس مشکل وقت میں عامر خان کے والد طاہر حسین کی شفقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طاہر حسین صاحب ایک بہترین انسان تھے، جب بھی انہیں موقع ملتا وہ مجھ سے اس موضوع پر بات کرتے تھے، وہ اکثر میری حالت دیکھ کر جذباتی ہو جاتے تھے اور رو پڑتے تھے۔

انہوں نے اپنی سابقہ ساس شہناز کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ آج اپنی زندگی کو دوبارہ شروع کرنے پر اور ان لوگوں کی شکر گزار ہیں جنہوں نے انہیں اس برے رشتے سے نکلنے میں مدد کی۔

More

Comments
1000 characters