بین ااقوامی شہرت یافتہ ہاکستانی گلوکار عاطف اسلم کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی موسیقی کو چھوڑنے کا نہیں سوچا، البتہ ایک فنکار کی زندگی میں ایسا وقت ضرور آتا ہے جب اسے تخلیقی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حال ہی میں بھارت کے یوٹیوب چینل ’دی کرلی ٹیلز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں عاطف اسلم نے اپنی کامیابی، شہرت اور موسیقی کو خیرباد کہنے کے بارے میں کھلم کھلا بات کی ہے۔

گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں اتنی شہرت کیسے ملی تو عاطف نے کہا کہ انہیں خود بھی اس بات کا اندازہ نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا کہ، مجھے تو خود اندازہ نہیں تھا کہ میں کس طرح کامیاب ہو گیا۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ سب کیسے ہوا.

اپنی کامیابی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ اس کو محنت سے جوڑتے ہیں، لیکن اس میں میری کوئی محنت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ انسان کو وہاں لے جاتا ہے جہاں وہ اسے لے جانا چاہتا ہے، بس میری شہرت اور کامیابی کی یہی حقیقت ہے۔

عاطف اسلم کے نزدیک کامیابی ملنے کے بعد ایک فنکار پر ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ ان کے مطابق شروعات میں ہر کامیابی کے بعد اگلے کام کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کی توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں۔

عاطف اسلم نے کہا کہ، ’ایک گانا ہٹ ہونے کے بعد انسان سوچتا ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ پھر دوسرے گانے کے بعد لگتا ہے کہ بس یہی تھا، اب لوگ مجھے پسند نہیں کریں گے۔ لیکن جب پوری البم آتی ہے تو ذمہ داری بڑھ جاتی ہے اور یہ ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔‘

عاطف اسلم نے اپنی شہرت میں بولی ووڈ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد بولی ووڈ نے بھی میری کامیابی میں بڑا کردار ادا کیا۔

موسیقی کو خیرباد کہنے کے سوال پر عاطف اسلم نےواضح کیا کہ میں نے کبھی بھی موسیقی چھوڑنے کا نہیں سوچا۔ ہاں، کبھی کبھی ایسا وقت آتا ہے جب انسان کے ذہن میں نئے خیالات آنا بند ہو جاتے ہیں، جو میرے خیال میں کسی بھی فنکار کے لیے بہت ضروری ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک فنکار کی زندگی میں ایسا مرحلہ بھی آتا ہے جب اسے لگتا ہے کہ اس کے پاس کہنے یا لکھنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ کو اندر سے خالی محسوس کرتا ہے ۔ عاطف کے مطابق ایسے وقت میں فنکار کچھ لکھ نہیں پاتا اور اسے ایک خاص دور سے گزرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لیکن پھر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب خوشیوں کا پیالہ بھر جاتا ہے، اس وقت انسان کو بس خاموشی سے بیٹھ کر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کا لطف اٹھانا چاہیے۔

عاطف نے اپنے حالیہ ریلیز ہونے والے چوتھے اسٹوڈیو البم کے گانے ’صبح آئے نہ‘ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ گانا ان کی ذاتی سوچ، خود کو سمجھنے اور اللہ پر یقین کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا، “’صبح آئے نہ‘ خود کو تلاش کرنے اور اللہ پر ایمان کے بارے میں ہے۔”

عاطف اسلم نے 18 سال بعد ایک البم پر آزادانہ طور پر کام کرنے کے اپنے فیصلے کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کے مطابق اس فیصلے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ تجارتی بنیادوں پر بننے والے منصوبوں سے کچھ فاصلے پر جاکر دوبارہ اپنے لیے گانے لکھنا اور موسیقی ترتیب دینا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا، ’میں دوبارہ صفر پر واپس آگیا ہوں، جہاں میں ہونا چاہتا تھا۔ میں وہی بے خوف شخص بننا چاہتا تھا جو صرف موسیقی ریلیز کرنا چاہتا ہے۔‘

یاد رہے کہ عاطف اسلم دنیا بھر میں اپنی بہترین اور سریلی آواز کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے چاہنے والوں کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ ان کے کئی یادگار اور جذباتی گانے آج بھی بہت شوق سے سنے جاتے ہیں۔ لوگ خاص طور پر ان کی اونچی سروں میں گانے کی صلاحیت کو بہت پسند کرتے ہیں۔

عاطف اسلم گانے گانے کے ساتھ ساتھ پاکستان، کینیڈا اور شمالی امریکہ سمیت دنیا بھر میں اپنے کنسرٹس میں بھی مشغول رہتے ہیں۔

فی الحال عاطف اسلم موسیقی اور لائیو پرفارمنس کے سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کے بقول موسیقی سے دور جانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں۔

More

Comments
1000 characters