اسرائیل کے لبنان پر شدید حملوں کے بعد لبنانی نژاد فحش فلموں کی سابق اداکارہ میا خلیفہ کا ایک جذباتی ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے جس میں وہ اسرائیلی جارحیت پر گفتگو کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام میں میا خلیفہ نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کے تکلیف دہ لمحات میں سے ایک ہے کیوں کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود ایک منٹ میں سیکڑوں مقامات پر بمباری کی جس میں اسپتال، اسکول سمیت شہری مقامات حتیٰ کہ قبرستان بھی شامل ہے۔
اسرائیلی حملوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ بمباری کے دوران بیروت کا وہ اسپتال بھی مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے جہاں ان کی پیدائش ہوئی تھی۔
میا خلیفہ امریکی شہری ہیں جن کا آبائی تعلق لبنان سے ہے۔ انہیں فحش فلموں کی وجہ سے شہرت ملی تھی تاہم اب وہ یہ انڈسٹری چھوڑ کر سوشل میڈیا انفلوئنسر کی حیثیت سے متحرک ہیں اور لائف اسٹائل، فوڈ اور سیاست سے متعلقہ پوسٹس کرتی ہیں۔
بدھ کے روز لبنان پر شدید حملوں کے بعد انہوں نے اسرائیل کو حاصل امریکی حمایت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں اس بات کو کیسے تسلیم کروں کہ میرے ٹیکس کے پیسوں سے میرے ہی وطن کا یہ حال کیا جا رہا ہے‘۔
ویڈیو پیغام میں میا خلیفہ کا کہنا تھا کہ ’میں لبنان میں جاری نسل کشی پر خاموش نہیں رہ سکتی، ہوسکتا ہے کہ میں الفاظ میں وہ درد بیان نہ کرپاؤں جو اس وقت میں محسوس کررہی ہوں‘۔ اپنے آبائی وطن میں ہونے والی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوگئیں۔
انہوں نے رہائشی عمارتوں، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے جانے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے اسے ’پاگل پن‘ اور ’وحشیانہ اقدام‘ قرار دیا۔
غزہ میں اسرائیلی مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے بھی ہم نے ایک خود مختار ملک (فلسطین) پر انسانیت سوز مظالم کا مشاہدہ کیا، اب ایک اور خود مختار ملک پر قیامت برپا ہے، اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے‘۔
انہوں نے عالمی برادری کی ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا کی توجہ خلا کو تسخیر کرنے پر مرکوز ہے جب کہ زمین پر لوگ مسلسل ایک دوسرے پر بمباری کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’آخر یہ سب کب ختم ہوگا؟‘۔
اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے لبنان کے عوام کے ساتھ دلی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ہم وطنوں کو مشکل میں دیکھ کر شدید تکلیف میں ہیں۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز اسرائیل نے لبنان پر اچانک حملوں میں 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں ایک ہی دن میں 250 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔
یہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم اسرائیلی حکام کا اصرار ہے کہ اس جنگ بندی معاہدے کا اطلاق لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جاری کارروائیں پر نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ میا خلیفہ اس سے قبل بھی امریکی اور اسرائیلی جارحیت پر آواز اٹھاتی آئی ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کے حقوق اور فلسطین اور لبنان کاز کی حامی رہی ہیں۔ وہ اس بات کا بھی دعویٰ کرتی آئی ہیں کہ انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے نتیجے میں انہیں کئی بڑے معاہدوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔
























