بولی وڈ کی معروف ڈانسر اور اداکارہ نورا فتیحی نے حال ہی میں اپنی ذاتی زندگی، والدین کی علیحدگی اور مردوں کے ساتھ اپنے پیچیدہ تعلقات کے بارے میں حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بچپن کے حالات نے ان کی ذہنی صحت اور جذباتی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
مشہور یوٹیوبر للی سنگھ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نورا فتیحی نے بتایا کہ ان کی پرورش ان کی والدہ نے کی ہے۔ ان کے والدین کے درمیان طلاق ہو گئی تھی، جس کے بعد ان کے والد طویل عرصے تک ان کی زندگی سے غائب رہے۔
نورا نے اپنی والدہ کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ نے اکیلے ہی سخت محنت کر کے انہیں اوران کے بھائی کو پالا اور ان کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔
انہوں نے اپنی کامیابیوں کا سہرا اپنی والدہ کو دیتے ہوئے کہا کہ وہ بچپن میں شکیرا اور جینیفر لوپیز جیسی اسٹارز کو اپنا رول ماڈل سمجھتی تھیں، لیکن اب انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کی اصل ہیرو ان کی ماں ہیں۔ جنہوں نے مشکلات کے باوجود انہیں سنبھالا۔
نورا نے اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ، ’مجھے ’ڈیڈی ایشوز‘ ہیں۔ جب آپ کا باپ آپ کو چھوڑ دے، تو آپ کے اندر کسی کے بچھڑ جانے اور ریجیکٹ کیے جانے کا خوف پیدا ہو جاتا ہے۔‘
اپنے خاندانی پس منظر پر بات کرتے ہوئے نورا نے کہا کہ ان کی والدہ نے ایک ’سنگل مدر‘ کے طور پر کئی ملازمتیں کیں تاکہ نورا اور ان کے بھائی کی بہترین پرورش کر سکیں۔
نورا کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب انہوں نے اپنی ماں کو تنہا بچوں کی پرورش اور زندگی کی ذمہ داریاں نبھاتے دیکھا تو انہیں اپنے والد کے لیے کڑواہٹ محسوس ہونے لگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں پرورش پانے والے بچے، خاص طور پر لڑکیاں بعض اوقات مردوں اور رشتوں کے بارے میں منفی جذبات پیدا کر لیتی ہیں۔
نورا کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی میں کئی اچھے مرد بھی دیکھے، لیکن بچپن کے زخم اور ’ڈیڈی ایشوز‘ کی وجہ سے کسی بھی رشتے پر اعتماد اور پھر جدائی کو قبول کرنا ان کے لیے مشکل رہا۔
نورا نے ماضی کے رشتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ والد کی کمی کی وجہ سے وہ اکثر ایسے مردوں کے ساتھ رہیں جو ان کے لیے بہتر نہیں تھے۔
انہوں نے کہا، ’اگر کوئی مرد مجھے چھوڑنا چاہتا ہے، تو میرے لیے اس حقیقت کو تسلیم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ میرا مسئلہ ہے ، لیکن اس کی جڑیں کہیں نہ کہیں ایک مرد (والد) کے رویے سے جڑی ہیں۔‘
نورا فتیحی نے واضح کیا کہ وہ اب بھی ان جذباتی مسائل سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اپنی زندگی کے ان تلخ تجربات سے سیکھ رہی ہیں تاکہ مستقبل میں بہتر فیصلے کر سکیں۔
























