ہوائی سفر کے دوران سب سے بڑا خوف فلائٹ کا چھوٹ جانا ہوتا ہے، خاص طور پر جب آپ اپنے گھر سے دور کسی دوسرے ملک یا شہر کے ایئرپورٹ پر ’کنیکٹنگ فلائٹ‘ (درمیانی پرواز) کا انتظار کر رہے ہوں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں آپ کو نیا ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہیں؟ ایئر لائنز کا ایک سنہری اصول آپ کو بڑی پریشانی سے بچا سکتا ہے۔
اگر آپ نے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے تمام پروازیں ایک ہی ٹکٹ یا ایک ہی کنکشن نمبر (پی این آر) کے تحت بک کرائی ہیں، تو پرواز چھوٹنے کی صورت میں آپ تنہا نہیں ہیں۔
اگر پہلی فلائٹ میں تاخیر، امیگریشن کی لمبی لائنوں یا ایئر لائن کی کسی تکنیکی غلطی کی وجہ سے آپ کی اگلی فلائٹ چھوٹ جاتی ہے، تو اسے دوبارہ بک کرنا ایئر لائن کی ذمہ داری ہے۔
اگر آپ کی غلطی کے بغیر فلائٹ مس ہوئی ہے، تو کمپنی درج ذیل سہولیات فراہم کرنے کی پابند ہے۔
آپ کو اگلی دستیاب پرواز میں بغیر کسی اضافی معاوضے کے سیٹ دی جائے گی، تاکہ آپ اپنے سفر کو جاری رکھ سکیں۔
اگر اگلی پرواز میں چند گھنٹوں کا وقفہ ہے، تو ایئر لائن آپ کو کھانے کے کوپن فراہم کرتی ہے۔
اگر اگلی فلائٹ اگلے دن ہے، تو ایئر لائن ہوٹل میں قیام اور ایئرپورٹ سے ہوٹل تک ٹرانسپورٹ دینے کی ذمہ دار ہے۔
بعض حالات میں،خاص طور پر جب تاخیر ایئرلائن کی اپنی غلطی سے ہو، مسافر اضافی معاوضے کے بھی حقدار ہو سکتے ہیں۔
تاہم، یہ سہولت ہر کسی کے لیے نہیں ہوتی۔ مسافروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سہولت صرف تب ملتی ہے جب سفر ’ایک ہی ٹکٹ‘ پر ہو۔
اگر آپ نے دو الگ الگ ایئر لائنز سے الگ الگ ٹکٹ خریدے ہیں، تو دوسری ایئر لائن آپ کو مفت سیٹ دینے کی پابند نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ، اگر فلائٹ آپ کی اپنی سستی یا تاخیر سے ایئرپورٹ پہنچنے کی وجہ سے چھوٹی ہے، تو بھی ایئر لائن مدد نہیں کرے گی۔
فلائٹ چھوٹ جائے تو فوراً کیا کریں؟
ایئرپورٹ پر موجود ایئر لائن کے کسٹمر سروس کاؤنٹر سے فوری رابطہ کریں اور اپنی بکنگ کی تفصیلات تیار رکھیں۔
اپنی بورڈنگ پاس اور دیگر ضروری دستاویزات ساتھ رکھیں تاکہ عمل تیز ہو سکے۔ اس کے علاوہ ایئرلائن کی موبائل ایپ بھی چیک کریں، کئی بار ایئر لائنز اپنی موبائل ایپ پر خود بخود آپ کو نئی فلائٹ الاٹ کر دیتی ہیں۔
اپنے چیک ان بیگیج (سامان) کے بارے میں ضرور پوچھیں کہ آیا وہ اگلی فلائٹ میں منتقل ہوگا یا نہیں۔ کیونکہ اکثر چیک اِن بیگج سیدھا آخری منزل تک پہنچ جاتا ہے۔
مستقبل کے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے ہمیشہ دو پروازوں کے درمیان کم از کم 2 سے 3 گھنٹے کا وقفہ رکھیں، خاص طور پر بین الاقوامی سفر میں جہاں امیگریشن اور سیکیورٹی میں وقت لگ سکتا ہے۔
ایک ہی ٹکٹ پر مکمل سفر بک کرنا بھی زیادہ محفوظ رہتا ہے، چاہے اس کی قیمت تھوڑی زیادہ ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس صورت میں ایئرلائن آپ کی مکمل ذمہ داری لیتی ہے۔
























