جدید طبی سائنس اب محض بیماریوں کے علاج تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان خاموش اشاروں کی کھوج میں ہے جو موت کے منڈلاتے خطرات سے وقت سے پہلے خبردار کر سکیں۔

اسی سلسلے میں طبی جریدے جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق نے بزرگ افراد میں شرحِ اموات اور ان کی نیند کے درمیان ایک لرزہ خیز تعلق دریافت کیا ہے۔

تحقیق کے مطابق دن کے وقت سونے کے معمولات میں غیر معمولی تبدیلی، خاص طور پر ضرورت سے زیادہ قیلولہ کرنا، محض بڑھاپے کی تھکن نہیں بلکہ اعصابی انحطاط یا قلبی صحت میں بگاڑ کی صورت میں موت کی ایک ابتدائی انتباہی علامت ہو سکتی ہے۔

اس مطالعے کے لیے میساچیسٹَس جنرل ہسپتال اور رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین کی ایک ٹیم نے ”رش میموری اینڈ ایجنگ پروجیکٹ“ کے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا۔

اس تحقیق کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں شرکاء کی زبانی رپورٹس کے بجائے ”ایکٹی گرافی“ نامی جدید آلات کا استعمال کیا گیا، جنہوں نے 1,338 بزرگ افراد کی نیند اور جسمانی سرگرمیوں کا مسلسل 19 سال تک معروضی مشاہدہ کیا۔

اس ریسرچ پیپر کی مرکزی مصنفہ اور میڈیکل اسکول میں نیند کے عارضوں کی ماہر ڈاکٹر چینلو گاؤ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ یہ پایا کہ دن کی نیند کے دورانیے اور وقت کا موت کے خطرے سے براہِ راست تعلق ہے۔

تحقیق کے مطابق دن کے وقت سونے کے ہر اضافی گھنٹے کے ساتھ موت کے خطرے میں 13 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ سب سے اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ وہ افراد جو صبح کے وقت قیلولہ (مارننگ نیپنگ) کرنے کے عادی ہیں، ان میں شام کو سونے والوں کے مقابلے میں موت کا خطرہ 30 فیصد زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلیاں دراصل جسم کے اندرونی نظام میں ہونے والی خرابیوں کا عکس ہوتی ہیں۔ جب کسی فرد میں ’نیورو ڈی جنریشن‘ یا کارڈیو ویسکولر ہیلتھ میں گراوٹ شروع ہوتی ہے، تو جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی اپنا توازن کھونے لگتی ہے۔

ڈاکٹر گاؤ کے مطابق یہ ایک باہمی تعلق ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ضرورت سے زیادہ سونا بذاتِ خود بیماری نہیں ہے، بلکہ یہ کسی چھپی ہوئی دائمی بیماری یا حیاتیاتی عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس جامع مطالعے کا خلاصہ یہ ہے کہ بزرگ افراد کے سونے کے انداز پر نظر رکھ کر ان کی صحت کے مستقبل کے بارے میں اہم پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔

محققین نے یہ تجویز دی ہے کہ مستقبل میں پہننے والے طبی آلات کو کلینیکل تشخیص کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ نیند کے بدلتے ہوئے پیٹرنز کو بروقت بھانپ کر صحت کے ممکنہ خطرات کو روکا جا سکے۔ یہ تحقیق ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بڑھاپے میں نیند کے معمولات میں آنے والی تبدیلیوں کو محض سستی سمجھ کر نظر انداز کرنا ایک بڑی طبی غلطی ثابت ہو سکتا ہے۔

More

Comments
1000 characters