شوبز کی چمک دمک کے پیچھے اکثر ایسی تلخیاں چھپی ہوتی ہیں جو ایک فنکار کو اپنی شناخت چھوڑنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

گلوکاری کے ذریعے اپنی شہرت بنانے والے علی ظفر کی زندگی میں بھی ایک ایسا موڑ آیا تھا جب انہوں نے شوبز کو خیرباد کہنے کا سوچ لیا تھا۔ تاہم اپنوں کے ساتھ اور مداحوں کی محبت نے انہیں اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے پر مجبور کردیا۔

علی ظفر نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں اپنے سفر کا آغاز موسیقی سے کیا اور بعد ازاں اداکاری میں بھی کامیابی حاصل کی اور نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ انہوں نے حال ہی میں اپنی زندگی کے ایک تاریک باب سے پردہ اٹھایا ہے۔

آٹھ سالہ طویل قانونی جنگ اور میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کا کیس جیتنے کے بعد، علی ظفر نے انکشاف کیا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب وہ اس رنگین دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنا چاہتے تھے۔

ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ وہ شوبز میں کسی بڑے نام یا شہرت کی ہوس لے کر نہیں آئے تھے، بلکہ ان کا مقصد صرف فن کی تخلیق تھا۔ وہ خود کو بنیادی طور پر ایک آرٹسٹ مانتے ہیں جو صرف اپنے کام سے مخلص رہنا چاہتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ، ’میں ایک معصومانہ خواہش کے ساتھ اس انڈسٹری میں آیا تھا کہ بس آرٹ تخلیق کرتا رہوں، اور میری توجہ کسی اور سمت نہ جائے، لیکن جب پیشہ ورانہ زندگی میں سیاست اور منفی مہم جوئی شامل ہو جائے، تو وہ انسان کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔‘

اداکار نے اعتراف کیا کہ جب الزامات اور تنازعات نے ان کی شخصیت کو متاثر کرنا شروع کیا، تو وہ ذہنی طور پر ٹوٹ چکے تھے اور سب کچھ چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا تھا۔ اس مشکل گھڑی میں ان کے اہلِ خانہ کی حمایت نے انہیں ہمت دی اور مداحوں کی محبت نے انہیں دوبارہ کھڑا ہونے پر مجبور کیا۔

آج علی ظفر اپنی پیشہ ورانہ کامیابیوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور ایک بار پھر اپنے فن کے ذریعے دل جیتنے کے لیے تیار ہیں۔

More

Comments
1000 characters