بھارتی اداکارہ سونالی راؤت نے رئیلٹی شو بگ باس مراٹھی سیزن 6 کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

بگ باس کے گھر کی گلیمر سے بھرپور زندگی کے پیچھے چھپی ”تاریک حقیقت“ اس وقت منظرِ عام پر آئی جب سابقہ مدمقابل سونالی راؤت نے شو کے انتظامیہ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ کا دعویٰ ہے کہ شو کے دوران انہیں نہ صرف ذہنی اذیت دی گئی بلکہ غیر انسانی حالات میں رہنے پر مجبور کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ ایک متعدی جلدی بیماری کا شکار ہو گئی ہیں۔

سونالی راؤت نے سوشل میڈیا پر اپنے جسم پر پڑنے والے نشانات اور زخموں کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں ’اسکیبیز‘ نامی جلدی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔

اداکارہ کے مطابق کچن میں بڑے بڑے چوہے گروسری راشن کھاتے تھے اور اسی آلودہ سامان سے تمام امیدواروں کا کھانا تیار کیا جاتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ، شو کے دوران ملنے والے کھانے سے اکثر کاکروچ نکلتے تھے۔

سزا کے طور پر 17 امیدواروں کے لیے صرف ایک ہی واش روم تھا، جہاں لوگ سگریٹ نوشی کرتے، کھانا کھاتے اور گندگی پھیلاتے تھے، یہاں تک کہ وہاں مردہ چوہے تک پائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ صفائی کی شدید کمی کے باعث لوگ ایک دوسرے کے تولیے اور نیپکن استعمال کرتے تھے۔

۔

سونالی نے انکشاف کیا کہ وہاں موجود مائیکرو ویو اور کپڑے خشک کرنے والی مشینیں برسوں پرانی اور دوسرے شوز سے لائی گئی تھیں، جن پر پرانے امیدواروں کے نام کے اسٹیکرز تک موجود تھے۔

مزید برآں، اداکارہ نے الزام لگایا کہ ان کا خفیہ معاہدہ دیگر امیدواروں کے ساتھ شیئر کیا گیا، جو کہ قانونی طور پر اعتماد کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

اداکارہ نے اینڈیمول پروڈکشن کو قانونی نوٹس بھیجتے ہوئے جواب طلبی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ”میں اعتماد کے ساتھ اس شو میں گئی تھی لیکن وہاں سے ایک متعدی بیماری لے کر نکلی ہوں۔ اب وقت آگیا ہے کہ میکرز کا احتساب کیا جائے۔“

یاد رہے کہ سونالی راؤت اس سے قبل بھی بگ باس 8 میں شرکت کر چکی ہیں، تاہم اس بار انہوں نے شو کے حالات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ میکرز ان الزامات کا کیا جواب دیتے ہیں اور کیا اس معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کی جاتی ہیں یا نہیں؟

More

Comments
1000 characters