جنوبی ایشیا میں سونا صرف ایک دھات یا زیورنہیں بلکہ خاندانوں کی میراث، جذباتی لگاؤ اور زندگی بھر کی جمع پونجی کی علامت ہے۔ صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہونے والا یہ قیمتی اثاثہ جہاں بظاہر کبھی خراب نہیں ہوتا، وہیں ایک ایسی چیز بھی ہے جس کا صرف ایک قطرہ آپ کے لاکھوں روپے مالیت کے زیور کو مٹی کے ڈھیر میں بدل سکتا ہے۔
خواتین سونے کے زیورات کو اپنی زندگی کا قیمتی حصہ سمجھ کر محفوظ رکھتی ہیں اور اکثر یہ قیمتی زیورات سالوں تک خاندان میں نسلوں تک منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی لاپرواہی آپ کے لاکھوں کے سونے کے زیورات کو لوہے کے بیکار ٹکڑے میں تبدیل کر سکتی ہے؟ اگر یہ چیز سونے میں مل جائے تو سونا راکھ کی طرح ہوسکتا ہے۔
سائنسی اعتبار سے پارہ سونے کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ عام طور پر سونا ایک ’سست دھات‘ ہے جو ہوا یا نمی سے ردِ عمل نہیں کرتی، لیکن اگر غلطی سے پارہ سونے کے زیور سے ٹکرا جائے، چاہے وہ صرف ایک قطرہ ہی کیوں نہ ہو، وتو وہ سونے کی ساخت کو اندر سے متاثر کر سکتا ہے۔
جیسے ہی پارہ سونے کے رابطے میں آتا ہے، یہ ایک شدید کیمیائی عمل شروع کر دیتا ہے جسے ’املگمیشن‘ کہا جاتا ہے۔
پارہ سونے کے مالیکیولر ڈھانچے میں سرایت کر کے اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
پارے کے رابطے میں آتے ہی سونے کی اصل چمک ختم ہو جاتی ہے، اس پر سفید یا سرمئی دھبے پڑ جاتے ہیں اور وہ بسکٹ کی طرح ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔
ٹوٹے ہوئے تھرمامیٹر، بلڈ پریشر چیک کرنے والی پرانی مشینوں، بیٹری سیلز یا بعض ادویات اور کاسمیٹکس میں موجود پارے کا ایک دانہ بھی پورے زیور کو ’بے قیمت‘ کرنے کے لیے کافی ہے۔
اگر یہ کسی طرح زیورات پر گر جائے تو نقصان فوری اور ناقابلِ واپسی ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سونے پر پارہ گر جائے تو اسے ہرگز آگ پر جلانے کی کوشش نہ کریں۔ کیونکہ پارے کا دھواں انتہائی مہلک ہو سکتا ہے۔ جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں، دماغ اور گردوں کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے۔
احتیاطی تدابیر اور حل
جیولر سے رجوع کریں: اگر آپ کو زیور پر سفید دھبہ نظر آئے یا شک ہو کہ اس پر پارہ گرا ہے، تو خود صفائی کرنے کے بجائے فوری طور پر تجربہ کار سنار کے پاس جائیں۔ ماہرین مخصوص درجہ حرارت پر پارے کو سونے سے الگ کر سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل آلات کا استعمال: گھروں سے پارے والے تھرمامیٹر نکال کر ڈیجیٹل آلات کا انتخاب کریں تاکہ حادثاتی طور پر پارے کے اخراج کا خطرہ ختم ہو جائے۔
محفوظ اسٹوریج: اپنے سونے کے زیورات کو ادویات اور پرانی بیٹریوں سے دور رکھیں۔
ملاوٹ شدہ زیورات کا سیاہ ہونا
واضح رہے کہ 24 قیراط سونا تو خالص ہوتا ہے، لیکن زیورات کی تیاری میں استعمال ہونے والا تانبا یا چاندی وقت کے ساتھ آکسیڈیشن کی وجہ سے سیاہ پڑ سکتے ہیں۔ تاہم، اگر سونا سفید ہو کر ٹوٹنے لگے تو یہ پارے کی آلودگی کی یقینی علامت ہے۔
اپنی نسلوں کی امانت کو محفوظ رکھنے کے لیے تھوڑی سی بیداری اور احتیاط آپ کو بڑے مالی اور جذباتی نقصان سے بچا سکتی ہے۔
























