شدید گرمی کا موسم آتے ہی تپتی ہوئی دھوپ میں جہاں ہر چیز جھلسنے لگتی ہے، وہاں بالوں کی دیکھ بھال بھی ایک بڑا دردِ سر بن جاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ گھر سے باہر نکلتے ہیں اور محض دس منٹ میں سر اور بال پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ہرفرد ایک عجیب الجھن کا شکار ہو جاتا ہے کہ کیا بالوں کو روزانہ شیمپو سے دھویا جائے جس سے بال سوکھ کر تنکے جیسے ہو جائیں، یا پھر دھونے سے گریز کیا جائے اور چپچپے اور تیل سے بھرے بالوں کے ساتھ گھوما جائے؟
طبی ماہرین اور ماہرینِ جلد کے مطابق اس موسم میں بالوں کو دھونے کا ایک خاص اور متوازن طریقہ کار موجود ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ اب تک گرمیوں کے حساب سے اپنے بال بالکل غلط طریقے سے دھو رہے ہوں۔
جب درجہ حرارت بڑھتا ہے، تو سر کی جلد میں موجود قدرتی تیل بنانے والے غدود زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ جب یہ اضافی تیل پسینے کے ساتھ ملتا ہے (جس میں نمک اور لیکٹک ایسڈ شامل ہوتے ہیں) تو یہ بالوں کی جڑوں کو بند کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سر میں خارش، خشکی اور چمڑی کی سوزش جیسی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں، جنہیں جلد سے جلد صاف کرنا ضروری ہوتا ہے۔
لیکن یہاں ایک بڑا نقصان بھی ہے۔ اگر آپ روزانہ سخت کیمیکلز یا سلفیٹ والے شیمپو سے سر کو زور زور سے رگڑ کر دھوئیں گے، تو سر کی قدرتی نمی بالکل ختم ہو جائے گی۔
ایسی صورت میں ہمارا جسم پریشان ہو کر مزید تیزی سے تیل بنانا شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزانہ شیمپو کرنے والوں کے بال دوپہر تک دوبارہ چپچپے ہو جاتے ہیں جبکہ بالوں کے نیچے کے حصے بالکل خشک اور بے جان نظر آتے ہیں۔
اپنے بالوں کی بناوٹ کو پہچانیں
ماہرینِ جلد کا کہنا ہے کہ بال دھونے کا کوئی ایک طریقہ سب کے لیے یکساں نہیں ہے۔ آپ کو اپنے بالوں کی بناوٹ کے حساب سے فیصلہ کرنا چاہیے۔
سیدھے اور باریک بال: اگر آپ کے بال بالکل سیدھے ہیں، تو ان میں تیل بہت تیزی سے جڑوں سے نیچے تک پھیل جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو گرمیوں میں ہر ایک سے دو دن بعد بال دھونے کی ضرورت ہوتی ہے۔
لہردار یا درمیانے گھنے بال: جن لوگوں کے بال تھوڑے لہردار یا گھنگھریالے ہوتے ہیں، ان کے بالوں میں تیل نیچے تک پہنچنے میں تھوڑا وقت لیتا ہے۔ انہیں دو سے تین دن کے وقفے سے بال دھونے چاہئیں تاکہ بال زیادہ خشک اور کھردرے نہ ہوں۔
بہت زیادہ گھنگھریالے اور موٹے بال: ایسے بالوں میں قدرتی تیل جڑوں سے نیچے تک نہیں پہنچ پاتا۔ ان لوگوں کو چوتھے سے ساتویں دن یا پندرہ دن میں ایک بار شیمپو کرنا چاہیے کیونکہ بار بار دھونے سے ان کے بال شدید خشک ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں۔
ورزش کے بعد کیا کریں؟
اگر آپ جم سے نکلے ہیں یا شدید حبس والے سفر کے بعد گھر پہنچے ہیں اور سر پسینے سے تر ہے، تو ہر بار شیمپو رگڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پسینہ چونکہ پانی میں آسانی سے حل ہو جاتا ہے، اس لیے نیم گرم پانی سے بال اچھی طرح دھو کر اور انگلیوں سے سر کی جلد صاف کر کے بھی پسینہ اور نمکیات دور کیے جا سکتے ہیں۔
شیمپو کے بغیر انگلیوں کی مدد سے سر کی جلد کا ہلکا سا مساج کریں تاکہ نمکیات نکل جائیں اور پھر بالوں کے نچلے سروں پر تھوڑا سا کنڈیشنر لگا لیں۔ اس سے بال بغیر کسی نقصان کے بالکل تازہ دم ہو جائیں گے۔
بالوں کو صاف رکھنے کے چند زبردست ٹوٹکے
اگر آپ شیمپو کیے بغیر بالوں کو تازہ رکھنا چاہتے ہیں، تو درج ذیل طریقوں پر عمل کریں۔
جب بھی شیمپو کریں، اسے صرف بالوں کی جڑوں پر لگائیں، بالوں کی لمبائی پر رگڑنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پانی کے ساتھ بہتا ہوا جھاگ خود ہی نیچے کے بالوں کو صاف کر دیتا ہے۔ اگر روزانہ دھونا مجبوری ہو، تو بازار میں دستیاب بغیر سلفیٹ والے ہلکے شیمپو استعمال کریں ۔
اس کے علاوہ ’ڈرائے شیمپو‘ (بغیر پانی کے استعمال ہونے والا پاؤڈر شیمپو) ایک اچھا متبادل ہے، لیکن اسے صبح کے وقت لگانے کے بجائے رات کو سوتے وقت جڑوں میں چھڑکیں۔ اس طرح پاؤڈر کو تیل جذب کرنے کے لیے کئی گھنٹے مل جائیں گے اور صبح بال بغیر کسی سفید داغ کے چمکدار نظر آئیں گے۔
مہینے میں دو بار کسی اچھے ’کلیریفائینگ شیمپو‘ کا استعمال کریں تاکہ گرمیوں کے پسینے، جمی ہوئی دھول اور سخت پانی کے نمکیات کا سر سے مکمل خاتمہ ہو سکے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر سر کی جلد میں کھچاؤ یا خارش ہو تو سمجھ لیں کہ آپ بال زیادہ دھو رہے ہیں، اور اگر سر بھاری محسوس ہو تو یہ شیمپو کرنے کا وقت ہے۔
























