ہالی ووڈ کے مشہور فلم ساز کرسٹوفر نولان کی نئی فلم ’دی اوڈیسی‘ سینما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے۔ یہ فلم کسی نئے زمانے کے اڑنے والے سپر ہیرو پر نہیں بنی، بلکہ یہ دنیا کی سب سے پرانی اور مشہور کہانیوں میں سے ایک پر مبنی ہے جسے یونان کے ایک شاعر ہومر نے آج سے تین ہزار سال پہلے لکھا تھا اور صدیوں سے دنیا بھر کے ادب، فلموں اور کہانیوں کو متاثر کیا ہے۔

یہ کہانی قدیم یونانی شاعر ہومر کی مشہور تخلیق ’دی اوڈیسی‘ پر مبنی ہے، جسے دنیا کے قدیم ترین اور عظیم ترین ادبی شاہکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ فلم میں معروف اداکار میٹ ڈیمن یونان کے افسانوی بادشاہ اوڈیسیئس کا کردار ادا کر رہے ہیں، جو جنگ جیتنے کے بعد اپنے گھر واپس پہنچنے کے لیے ایک طویل اور خطرناک سفر پر نکلتا ہے۔

ہومر کی یہ داستان تقریباً آٹھویں صدی قبل مسیح میں لکھی گئی سمجھی جاتی ہے۔ یہ کتاب قدیم یونانی ادب کی دو بڑی تخلیقات میں شامل ہے، دوسری مشہور تخلیق ’دی الیڈ‘ ہے۔ جہاں ’دی الیڈ‘ ٹرائے کی جنگ اور جنگجو اچیلز کی کہانی بیان کرتی ہے، وہیں ’دی اوڈیسی‘ جنگ کے بعد گھر واپسی کے مشکل سفر کو بیان کرتی ہے۔

کہانی کے مطابق اوڈیسیئس ٹرائے کی جنگ میں فتح کے بعد اپنے وطن جزیرہ ایتھاکا واپس جانا چاہتا ہے، لیکن اس کا سفر آسان نہیں ہوتا۔ وہ 10 سال جنگ میں گزارنے کے بعد مزید 10 سال سمندروں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اس دوران اس کی بیوی پینیلوپ اور بیٹا ٹیلی میکس اس کی واپسی کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

گھر میں موجود لوگ اوڈیسیئس کو مردہ سمجھنے لگتے ہیں اور کئی لوگ اس کی بیوی پینیلوپ سے شادی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اس کے محل میں رہ کر دولت خرچ کرتے ہیں، لیکن پینیلوپ اپنے شوہر کی واپسی کی امید نہیں چھوڑتی۔

کہانی میں دیوتاؤں کا بھی اہم کردار ہے۔ عقل اور حکمت کی دیوی ایتھینا اوڈیسیئس کی مدد کرتی ہے جبکہ سمندر کے دیوتا پوسیڈن اس کے راستے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ پوسیڈن اس لیے ناراض ہوتا ہے کیونکہ اوڈیسیئس نے اس کے بیٹے سائیکلوپس پولی فیمس کو نقصان پہنچایا تھا۔

اوڈیسیئس کے سفر میں کئی حیرت انگیز واقعات پیش آتے ہیں۔ وہ ایسے جزیرے پر پہنچتا ہے جہاں لوگ لوٹس نامی پھل کھا کر اپنے گھر اور ماضی کو بھول جاتے ہیں۔ پھر اس کا سامنا ایک دیو قامت سائیکلوپس سے ہوتا ہے جسے وہ اپنی طاقت سے نہیں بلکہ ذہانت سے شکست دیتا ہے۔

کہانی کا ایک مشہور حصہ سمندر کی خطرناک مخلوقات اور سائرن کی آوازوں سے متعلق ہے۔ سائرن اپنی خوبصورت آواز سے ملاحوں کو اپنی طرف کھینچ کر تباہ کر دیتے تھے۔ اوڈیسیئس اپنے ساتھیوں کے کانوں میں موم لگوا دیتا ہے اور خود کو کشتی کے کھمبے سے بندھوا لیتا ہے تاکہ وہ آواز سن سکے لیکن اس کے جادو میں گرفتار نہ ہو۔

اس کے علاوہ اوڈیسیئس کو جادوگرنی سرسے، خطرناک سمندری راستوں، چھ سر والے عفریت سکیلا اور خطرناک بھنور چیریبدس جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک موقع پر وہ زیر زمین دنیا میں جا کر مستقبل کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرتا ہے۔

اس داستان میں اوڈیسیئس کو ایک ایسے ہیرو کے طور پر دکھایا گیا ہے جو صرف طاقت پر نہیں بلکہ عقل، منصوبہ بندی اور حاضر جوابی پر بھروسہ کرتا ہے۔ یہی خوبی اسے دوسرے جنگجوؤں سے مختلف بناتی ہے۔

اس دوران اس کا بیٹا ٹیلی میکس بھی بڑا ہوتا ہے اور اپنے والد کی تلاش میں نکلتا ہے، جبکہ پینیلوپ صبر اور وفاداری کی مثال بن جاتی ہے۔ وہ شادی کے خواہشمند افراد کو روکنے کے لیے ایک چال چلتی ہے اور کہتی ہے کہ وہ اس وقت فیصلہ کرے گی جب وہ کفن بنانے کا کام مکمل کر لے گی، لیکن وہ رات کو اپنا کیا ہوا کام دوبارہ کھول دیتی ہے تاکہ وقت گزرتا رہے۔

آخرکار اوڈیسیئس اپنے وطن واپس پہنچتا ہے، جہاں وہ اپنی شناخت چھپاتے ہوئے حالات کا جائزہ لیتا ہے۔ بعد میں وہ اپنے مشہور کمان کے ذریعے اپنی پہچان ثابت کرتا ہے اور اپنے گھر اور بادشاہت کو واپس حاصل کر لیتا ہے۔

کرسٹوفر نولان کی فلم ’دی اوڈیسی‘ اسی قدیم کہانی کو جدید انداز میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔ فلم کے ذریعے ایک بار پھر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ انسان کے لیے اصل کامیابی صرف منزل تک پہنچنا نہیں بلکہ مشکل سفر کے دوران اپنے حوصلے اور شناخت کو برقرار رکھنا بھی ہے۔

’دی اوڈیسی‘ کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ اگرچہ اس میں دیو، دیوتا اور افسانوی واقعات شامل ہیں، لیکن اس کے بنیادی جذبات آج بھی عام انسان سے جڑے ہوئے ہیں، جیسے گھر واپس آنے کی خواہش، اپنے پیاروں کی یاد اور مشکل حالات میں امید قائم رکھنا۔

تقریباً تین ہزار سال بعد بھی اوڈیسیئس کی کہانی زندہ ہے اور نولان کی فلم نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا ہے کہ کچھ کہانیاں وقت گزرنے کے باوجود کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔

More

Comments
1000 characters