انٹرنیٹ پر ’چائے والا‘ کے نام سے شہرت پانے والے نوجوان ارشد خان نے پاکستانی پاسپورٹ نہ ملنے پر عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔ ارشد خان کے مطابق انہیں پاکستانی ہونے کے باوجود پاسپورٹ جاری نہیں کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال ارشد خان کا قومی شناختی کارڈ بھی بلاک ہوا تھا جسے نادرا نے پاکستانی شہریت کی تصدیق کے بعد بحال کر دیا تھا۔

عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نوجوان ارشد خان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے شکوہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی شہری ہیں اور ان کے اہل خانہ کی پاکستانی شہریت کی باقاعدہ تصدیق بھی ہوچکی ہے، اس کے باوجود بھی انہیں پاسپورٹ کے حصول میں مسائل کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریت کی تصدیق کے بعد انہیں پاسپورٹ جاری کردیا گیا تھا مگر اب ان کے پاسپورٹ کی تجدید نہیں کی جارہی ہے۔

اسلام آباد کے ایک بازار میں چائے بیچتے ہوئے ارشد خان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ اس وقت وہ 17 برس کے تھے، ان کی آنکھوں کے منفرد رنگ اور شخصیت نے صارفین کی خوب توجہ حاصل کی تھی۔

ارشد خان کی اس تصویر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں غیر معمولی مقبولیت ملی تھی۔ تصویر وائرل ہونے کے بعد ارشد خان کو ماڈلنگ کی پیشکش بھی ہوئی اور انہیں انٹرنیٹ پر ’ارشد چائے والا‘ کے نام سے پکارا جانے لگا تھا، یہی نام اب ان کی پہچان بن چکا ہے۔

ارشد خان کا برانڈ ”کیفے چائے والا“ پاکستان کے مختلف شہروں کے بعد لندن تک پہنچ چکا ہے۔

‘ارشد چائے والا‘ کے وکیل بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی کا کہنا ہے کہ ارشد خان مشہور پاکستانی شہری ہیں، عدالتی حکام پر ان کا شناختی بحال کیا گیا تھا، اس کے باوجود انہیں پاکستانی پاسپورٹ جاری نہیں کیا جارہا ہے۔

بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی کے مطابق انہوں نے متعلقہ حکام کو خط لکھا تھا جس پر خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔ جس کے بعد انہوں نے پاسپورٹ کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پٹیشن میں وفاقی وزارتِ داخلہ اور ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔ امید ہے کہ شناختی کارڈ کی طرح پاسپورٹ کے حصول میں بھی انہیں عدالت سے انصاف ملے گا۔

واضح رہے کہ ارشد خان کی پاکستانی شہریت سے متعلق افواہوں کے بعد نادرا نے انکا شناختی کارڈ بلاک کر دیا تھا۔

ارشد خان نے اپنے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی بحالی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں ارشد خان نے مؤقف اپنایا تھا کہ وہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور نادرا کا یہ اقدام غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے۔

ان کا مؤقف تھا کہ دستاویزات بلاک ہونے کے باعث انہیں ملک بدری کا خدشہ لاحق ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کی مہم جاری ہے۔

بعد ازاں اکتوبر 2025 میں نادرا کے ویری فکیشن بورڈ نے ارشد خان کی تمام خاندانی دستاویزات کو درست قرار دیتے ہوئے ان کا قومی شناختی کارڈ بحال کر دیا تھا۔

More

Comments
1000 characters