دنیا کے نامور فٹبالر اور ارجنٹائن قومی ٹیم کے کپتان لیونل میسی کے والد جارج میسی 68 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

اہل خانہ نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جارج میسی جمعہ کی رات ارجنٹائن کے شہر روزاریو کے ایک طبی مرکز میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق جارج میسی اپنی زندگی کے آخری چند ماہ روزاریو کے ایک طبی مرکز اور اپنے گھر کے درمیان گزارتے رہے۔ اس دوران ان کی اہلیہ سیلیا اور بچے روڈریگو، ماتیاس اور ماریا سول ان کے ساتھ موجود رہے اور ان کی دیکھ بھال کرتے رہے۔

جارج میسی اپنے بیٹے لیونل میسی کے فٹبال کیریئر میں انتہائی اہم کردار ادا کرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے میسی کے کیریئر کے ابتدائی دور سے ہی ان کا ساتھ دیا، خاص طور پر اس وقت جب میسی نے کم عمری میں فٹبال کی دنیا میں قدم رکھا اور بعد میں بارسلونا کے ساتھ اپنے شاندار کیریئر کا آغاز کیا۔

جارج نے میسی کو کھیل کی دنیا میں آگے بڑھانے اور بارسلونا کلب کے ساتھ معاہدے کروانے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ کئی سالوں تک اپنے بیٹے کے مینیجر بھی رہے۔

لیونل میسی نے ایک بار اپنے والد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے بچپن ہی سے ہمیشہ اپنے والد کی پسند کی ضرورت ہوتی تھی، میں ہر میچ کے بعد اپنے والد سے پوچھا کرتا تھا کہ انہیں میرا کھیل کیسا لگا۔

رائٹرز کے مطابق حالیہ فٹبال ورلڈ کپ کے دوران بھی میسی اپنی ذاتی زندگی میں ایک مشکل وقت سے گزر رہے تھے۔ الجزائر کے خلاف افتتاحی میچ میں ہیٹ ٹرک کرنے کے بعد جب انہوں نے پہلا گول کیا تو وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور میدان میں روتے ہوئے نظر آئے۔

بعد میں پریس کانفرنس میں میسی نے اپنے آنسوؤں کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری آنکھوں میں آنسو فٹ بال کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک الگ وجہ سے تھے کیونکہ میں نے چند بہت مشکل اور پیچیدہ دن گزارے ہیں۔ اس کے کچھ دنوں بعد ہی ان کے خاندان نے جارج میسی کے علاج سے متعلق ایک بیان بھی جاری کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ کے بعد لیونل میسی نے اپنے والد کے ساتھ وقت گزارا تھا، جس کے بعد وہ اپنی کلب ٹیم انٹر میامی کے ساتھ دوبارہ شامل ہوگئے تھے۔ وہ تقریباً ایک ہفتہ قبل انٹر میامی کی جانب سے دوبارہ میدان میں بھی اترے تھے۔

قریبی خاندانی ذرائع کے مطابق میسی ہفتے کی رات تقریباً 8 بجے مقامی وقت پر نجی طیارے کے ذریعے میامی سے روزاریو پہنچنے کی توقع ہے، جہاں وہ اپنے والد کی آخری رسومات سے قبل ہونے والی نجی دعائیہ تقریب میں شرکت کریں گے۔

جارج میسی کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد دنیا کے کئی بڑے فٹبال کلبوں اور اداروں نے لیونل میسی اور ان کے خاندان سے تعزیت کی۔ ریئل میڈرڈ، میسی کا بچپن کا کلب نیویلز اولڈ بوائز اور ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن سمیت کئی اداروں نے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا،’ہم اس مشکل وقت میں پورے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی دلی، گرمجوش اور محبت بھری ہمدردی پیش کرتے ہیں۔ آپ سب کے لیے طاقت اور حوصلے کی دعا کرتے ہیں۔‘

ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن نے یہ بھی اعلان کیا کہ ملک کے تمام ڈویژنز میں ہونے والے میچز کے دوران جارج میسی کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی جبکہ کھلاڑی، کوچز اور ریفریز بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔

بارسلونا نے بھی جارج میسی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ کلب نے اپنے بیان میں کہا، ’ایف سی بارسلونا جارج میسی کا اپنے کلب کے لیے عزم اور اعتماد کے لیے شکریہ ادا کرتا ہے، کیونکہ انہوں نے ہمیں اپنے بیٹے لیو کے فٹبال کیریئر کے آغاز اور اس کے شاندار ترین برسوں کا حصہ بننے کا موقع دیا۔‘

جارج میسی کی موت لیونل میسی کے لیے ایک بڑا ذاتی نقصان ہے۔ وہ کئی دہائیوں تک اپنے بیٹے کے فٹبال سفر میں ان کے ساتھ رہے اور ایک والد کے ساتھ ساتھ ان کے مشیر اور نمائندے کا کردار بھی ادا کرتے رہے۔ میسی کے شاندار کیریئر میں ان کے والد کی حمایت کو ہمیشہ خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔

More

Comments
1000 characters