ایک بالکل نیا اور شاندار جہاز، یورپ کی مشہور ایئرلائن اور بزنس کلاس کی انتہائی آرام دہ نشستیں۔ کوئی بھی مسافر ان پر بیٹھنے کا خواب دیکھ سکتا ہے، لیکن اگر آپ کو بتایا جائے کہ ان شاندار نشستوں پر بیٹھنے کی اجازت ہی نہیں تو آپ کو کیسا لگے گا؟
دنیا کی بڑی ایئرلائنز مسافروں کو زیادہ آرام اور سہولت دینے کے لیے جہازوں میں جدید اور مہنگی نشستیں متعارف کرا رہی ہیں، لیکن اب یہی نشستیں ایک نئے مسئلے کا سبب بن رہی ہیں۔ کئی طیاروں میں ایسی شاندار بزنس کلاس نشستیں لگائی جارہی ہیں جنہیں حفاظتی منظوری نہ ملنے کی وجہ سے مسافر استعمال نہیں کر سکیں گے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ کئی بڑی ایئرلائنز کی پروازوں میں مسافروں کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کی ایک مثال نیدرلینڈز کی معروف ایئرلائن کے ایل ایم کا نیا ایئربس اے 350 طیارہ ہے۔ کمپنی رواں سال خزاں میں یہ طیارہ ایمسٹرڈیم سے ٹورنٹو کے روٹ پر چلانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
طیارے کی بزنس کلاس میں 34 جدید سوئٹس موجود ہیں۔ ان نشستوں کو مکمل بستر میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اور ہر نشست کے ساتھ پرائیویسی کے لیے سلائیڈنگ دروازہ بھی موجود ہے۔ تاہم خدشہ ہے کہ پروازیں شروع ہونے تک ان نشستوں کو حفاظتی منظوری نہ مل سکے اور وہ دورانِ پرواز خالی رہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ نشستیں اتنی جدید کیسے ہوگئیں کہ ان پر بیٹھ کر سفر کرنا ہی مشکل ہوگیا؟ اس کا جواب جاننے کے لیے ہمیں چند دہائیاں پیچھے جانا ہوگا۔

1990 کی مشہور فلم ’ہوم الون‘ میں جب بچوں کے والدین جہاز کی فرسٹ کلاس میں بیٹھتے ہیں تو ان کی نشستیں بڑی اور آرام دہ کرسیوں جیسی ہوتی ہیں۔ کئی سال تک فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس میں یہی صورتحال رہی، یہاں تک کہ 2000 میں برٹش ایئرویز نے دنیا کی پہلی ایسی نشست متعارف کرائی جو مکمل طور پر سیدھی ہوکر بستر میں تبدیل ہوجاتی تھی۔
اس کے بعد سے جہاز کی اگلی نشستیں آہستہ آہستہ چھوٹے اور جدید کمروں جیسی بن گئی ہیں۔ آج کی پریمیم نشستوں میں ہیٹنگ اور کولنگ کے ساتھ مسافروں کے لیے اپنی مرضی کا درجہ حرارت مقرر کرنے جیسی سہولتیں بھی موجود ہیں۔
لیکن ہر نئی سہولت کے ساتھ نشست کی حفاظتی جانچ بھی زیادہ مشکل ہوجاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کورونا کی وبا سے پہلے ایک نئی نشست کی منظوری کے عمل میں ایک سے دو سال لگتے تھے، جبکہ اب اس میں کم از کم مزید چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔
الاسکا ایئرلائنز کے سربراہ بین منی کچی نے اس عمل کے بارے میں کہا، ’جب آپ کسی نئی چیز کا تصور کرتے ہیں، اسے ڈیزائن کرتے ہیں، اس کا ٹیسٹ کرتے ہیں، منظوری لیتے ہیں اور پھر اسے بناتے ہیں تو یہ تین سال کا ایک بہت طویل عمل بن جاتا ہے۔ ہم نے پچھلے سال ایک نئے ڈیزائن کی منظوری دی تھی اور اب اسے بنانے والوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔‘

اس مسئلے کو بڑھانے میں ایئرلائنز کا مقابلے کا رجحان بھی ایک وجہ ہے۔ کمپنیاں ایک جیسی نشستیں استعمال کرنے کے بجائے اپنے حریفوں سے بہتر اور مختلف سہولتیں دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگر ایک ایئرلائن بزنس کلاس میں پرائیویسی کے لیے دروازہ لگاتی ہے تو دوسری کمپنی اس سے بھی زیادہ جدید سہولت متعارف کرانے کی کوشش کرتی ہے۔
نشستیں بنانے والی کمپنی ریکارو کے سربراہ مارک ہلر نے کہا، ’ایئرلائنز خود کو دوسروں سے مختلف دکھانا چاہتی ہیں اور یہی چیز صنعت میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔‘
حفاظتی ادارے بھی نئی نشستوں کے معاملے میں پہلے سے زیادہ احتیاط کرتے ہیں۔ انہیں یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ اگر جہاز کو حادثہ پیش آئے تو نشست، اس کا دروازہ یا دوسری چیزیں مسافر کے لیے خطرناک نہ ہوں۔
امریکی وفاقی ہوا بازی انتظامیہ کے سربراہ برائن بیڈفورڈ کے مطابق کچھ نئی پریمیم نشستیں حادثے کی صورت میں انسانی جسم پر پڑنے والے اثرات سے متعلق حفاظتی ٹیسٹ میں کامیاب نہیں ہو پاتیں۔
آج کل بزنس کلاس میں مسافروں کو زیادہ پرائیویسی دینے کے لیے نشستوں کے درمیان اونچی دیواریں اور دروازے لگائے جاتے ہیں، لیکن یہ چیزیں بھی حفاظتی منظوری کے عمل کو مشکل بناتی ہیں۔

یونائیٹڈ ایئرلائنز کے چیف کمرشل آفیسر اینڈریو نوسیلا نے کہا، ’اگر آپ 10 سال پیچھے جائیں تو بزنس کلاس میں بہت کم دیواریں تھیں، لیکن آج بہت زیادہ دیواریں ہیں۔ ان کے مطابق جدید کیبن نے نشستوں کی منظوری کے عمل کو بہت پیچیدہ بنا دیا ہے۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز نے اپنی نئی پولارس بزنس کلاس نشستوں کی منظوری نسبتاً جلد حاصل کرلی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے حفاظتی حکام اور نشست بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کیا، جس سے منظوری کا عمل تیز ہوا۔
لیکن ہر ایئرلائن کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں۔ جدید نشستوں میں بڑی اسکرینیں، بھاری سامان، دروازے اور مختلف قسم کے کپڑے استعمال ہوتے ہیں۔ ان تمام چیزوں کو آگ سے حفاظت اور حادثے کے وقت مسافر کو ممکنہ چوٹ سے بچانے کے لیے مختلف حفاظتی ٹیسٹوں سے گزارنا پڑتا ہے۔
کوئی بھی کمپنی یہ نہیں چاہتی کہ اس کا کروڑوں ڈالر کا جہاز صرف نشستوں کی منظوری کے انتظار میں زمین پر کھڑا رہے یا خالی نشستوں کے ساتھ اڑان بھرے۔
جہاز بنانے والی کمپنی بوئنگ کی اعلیٰ افسر اسٹیفنی پوپ نے نشستوں کی منظوری میں تاخیر کے حوالے سے کہا، ’ایسا کوئی مسئلہ نہیں جسے ہمارے انجینئرز حل نہ کرسکیں، اصل مسئلہ وہ وقت ہے جو اسے حل کرنے میں لگتا ہے۔ اگر کسی مسئلے کا پتہ بالکل آخری وقت میں چلے تو اس سے جہاز کی فراہمی میں تاخیر ہوسکتی ہے۔‘
مسافروں کی بڑھتی طلب نے بھی مسئلہ مزید بڑھا دیا ہے۔ دنیا بھر میں فضائی سفر میں اضافے کے ساتھ بزنس اور فرسٹ کلاس کی نشستوں کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔ مسافر اب صرف آرام دہ کرسی نہیں چاہتے بلکہ زیادہ پرائیویسی، بہتر تفریح اور جدید ٹیکنالوجی بھی چاہتے ہیں۔
اس وجہ سے نشست بنانے والی کمپنیوں اور حفاظتی اداروں پر کام کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ریکارو کے سربراہ مارک ہلر کے مطابق اگرچہ منظوری کے عمل میں کام کرنے والے افراد کی تعداد بڑھائی جارہی ہے، لیکن نئی نشستوں کی طلب بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مسئلہ فوری طور پر ختم ہونے کے بجائے کچھ عرصے کے لیے مزید بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا ایک حل یہ ہے کہ نشستوں کے ڈیزائن میں موجود ممکنہ خامیوں کو شروع ہی میں دور کرلیا جائے۔ مثال کے طور پر یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ جہاز کے عملے کو اونچی دیواروں کے پار مسافر واضح طور پر نظر آسکیں، تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری مدد کی جاسکے۔
کے ایل ایم کی مثال بھی اسی مسئلے کو واضح کرتی ہے۔ ایئرلائن نے بالکل نیا ڈیزائن تیار کرنے کی مشکل سے بچنے کے لیے ایسی نشستوں کا انتخاب کیا جو پہلے ہی ایئر فرانس کے طیاروں میں استعمال ہورہی تھیں۔ اس کے باوجود کے ایل ایم کی نئی بزنس کلاس نشستوں کو یورپی ہوا بازی کے حفاظتی ادارے سے منظوری کا انتظار ہے۔
کے ایل ایم کے مطابق منظوری میں تاخیر ضابطوں کے تقاضوں کی نئی تشریح کی وجہ سے ہوئی ہے۔
ان تمام مسائل اور تاخیر کے باوجود ایئرلائنز مسافروں کو جدید اور پرتعیش سہولتیں دینے سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہیں۔ بوئنگ کی اسٹیفنی پوپ نے کہا، “مجھے نہیں لگتا کہ یہ پیچیدہ اندرونی ڈیزائن ختم ہونے والے ہیں۔ میرے خیال میں یہی مستقبل کی سمت ہے۔”
انہوں نے مسکراتے ہوئے مزید کہا، “ہوسکتا ہے کہ ایک دن ہم سب کی جہاز کی نشست کے بالکل ساتھ شاور بھی موجود ہو۔”
تاہم فی الحال مسافروں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ جہاز میں موجود مہنگی اور جدید نشستیں صرف خوبصورت اور آرام دہ ہونا کافی نہیں، بلکہ انہیں حفاظتی منظوری حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر منظوری میں تاخیر ہوئی تو ممکن ہے کہ مسافر اپنے سامنے موجود بہترین نشستوں کو دیکھتے رہیں، لیکن ان پر بیٹھ نہ سکیں۔
























