پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے معروف اداکار فیروز خان نے اہلیہ علیزے سلطان سے علیحدگی پر خاموشی توڑ دی۔

ٹوئٹر پر فیروز خان نے لکھا کہ مجھے ملک کے ایک قانون کی پاسداری کرنے والے شہری کی حیثیت سے عدالت کے انصاف پر مکمل اعتماد ہے۔

اپنی پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ فیملی کورٹ میں ہماری طلاق 3 ستمبر کو ہوگئی تھی اور 19 ستمبر کو میں نے عدالت سے اپنے بچوں فاطمہ اور سلطان سے ملنے کی درخواست کی تھی۔

فیروز خان کے مطابق 21 ستمبر کو عدالتی حکم پر آدھے گھنٹے تک میری بچوں سے ملاقات کروائی گئی تھی۔

اداکار نے بتایا کہ عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کردی ہے اس تاریخ کو کیس کی پیروی ہوگی جس کے فیصلے کے بعد میں اپنے بچوں سے ملاقات کرسکوں گا۔

فیروز خان کا کہنا تھا کہ علیزہ میری سابقہ اہلیہ ہیں میں ان کی سپورٹ جاری رکھوں گا وہ میرے بچوں کی والدہ ہیں، میں اس پر مزید کچھ نہیں کہنا چاہوں گا کیونکہ عدالت میں کیس زیر سماعت ہے۔

گزشتہ روز اداکارفیروز خان کی جانب سے بچوں سے ملاقات کی درخواست پر فیملی کورٹ شرقی کی عدالت کے روبرو سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران اداکار فیروزخان نے بتایا کہ بچوں کاخرچ اداکررہاہوں ،اسکول میں داخلہ دلوایامگراسکول نہیں بھیجا جا رہا،فیروزخان کی سابق اہلیہ نے جواب دیا کہ میں گلستان جوہرمیں رہتی ہوں بچےکوروزڈیفنس کےاسکول کیسےلے کر جاؤں، جبکہ عدالتی اجازت کے بغیر فیروز خان کو بچوں سے ملاقات سے روک دیا گیا۔

عدالت نے فیروز خان کی درخواست پرسابق اہلیہ سے جواب طلب کرلیا ۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

اہلیہ نے فیروز خان پر ذہنی و جسمانی تشدد کا الزام لگادیا

واضح رہے کہ اس سے قبل علیزے نے شوہر سے علیحدگی کی تصدیق کرتے ہوئے فیروز خان پر الزامات عائد کیے تھے۔

علیزہ سلطان خان نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر اپنے شوہر فیروز خان پر سنگین نوعیت کے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شادی کے 4 سال انتہائی تلخ رہے اس دوران میں نے شدید ذہنی اور جسمانی تشدد برداشت کیا۔

انہوں نے لکھا ہے کہ شادی کے دوران شوہر کی جانب سے بے وفائی، بلیک میلنگ اور تذلیل بھی برداشت کرنی پڑی ہیں، انتہائی سوچ و بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ میں اپنی پوری زندگی اس ہولناک طریقے سے نہیں گزار سکتی۔

More

Comments
1000 characters