عیدالفطر کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر کے بازاروں میں خریداری کا جوش عروج پر ہے۔ کپڑوں، جوتوں اور زیورات کی خریداری میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور اس بار روایتی زیورات میں کشمیری طرز کی چوڑیاں خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی خاص توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

عید، مہندی اور شادی کی تقریبات میں یہ چوڑیاں مشرقی لباس کے ساتھ نہایت خوبصورت دکھائی دیتی ہیں، اسی لیے بہت سی خواتین انہیں اپنی عید کی تیاریوں کا اہم حصہ بنا رہی ہیں۔

بازاروں میں مختلف رنگوں اور دلکش ڈیزائنز میں دستیاب یہ چوڑیاں نہ صرف اپنی خوبصورتی کی وجہ سے پسند کی جا رہی ہیں بلکہ ان کی ہلکی ساخت بھی انہیں پہننے میں آسان بناتی ہے۔

فیشن ماہرین کے مطابق کشمیری چوڑیوں کی نمایاں پہچان ان کے منفرد نقش و نگار اور باریک دستکاری ہے۔ اکثر چوڑیوں کو مخملی کپڑے، رنگین دھاگوں، موتیوں اور چھوٹے آرائشی عناصر سے سجایا جاتا ہے جس سے ان کی دلکشی مزید بڑھ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے انہیں روایتی اور جدید فیشن کا حسین امتزاج قرار دیا جاتا ہے۔

دکانداروں کے مطابق عید کی خریداری کے دنوں میں کشمیری چوڑیوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر سرخ، سبز، سنہری اور گلابی رنگ کی چوڑیاں زیادہ فروخت ہو رہی ہیں کیونکہ یہ عید کے لباس کے ساتھ آسانی سے ہم آہنگ ہو جاتی ہیں۔

کئی بازاروں میں یہ چوڑیاں ”وائرل کشمیری چوڑیاں“ کے نام سے بھی فروخت کی جا رہی ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا پر ان کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔

حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا اور فیشن بلاگرز نے بھی کشمیری طرز کی چوڑیوں کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان پلیٹ فارمز پر مختلف انداز میں پیش کی جانے والی چوڑیوں نے نوجوان لڑکیوں میں ان کا شوق مزید بڑھا دیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل بازاروں میں دستیاب بہت سی چوڑیاں اصل کشمیری دستکاری سے متاثر ہو کر جدید انداز میں تیار کی جاتی ہیں۔

خریدار خواتین کے مطابق عید کے موقع پر رنگ برنگی چوڑیاں پہننے کی روایت ہمیشہ سے رہی ہے اور کشمیری چوڑیاں ہاتھوں کی خوبصورتی کو مزید نکھار دیتی ہیں۔

بدلتے رجحانات کے باوجود روایتی زیورات کی اہمیت برقرار ہے اور کشمیری چوڑیاں اس کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آئی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس عید پر بھی یہ چوڑیاں خواتین کے فیشن کا نمایاں حصہ رہیں گی۔

More

Comments
1000 characters