انٹرنیٹ پر فٹبال کے ایک میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود ایک خوبصورت خاتون کی مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس نے لوگوں کو کنفیوز کر دیا ہے۔
عراق کے شہر اربیل میں کھیلے گئے اس فٹبال میچ کے ایک کلپ میں مذکورہ خاتون کو اسٹیڈیم میں بیٹھے کیمرے کی طرف دیکھ کر معصومیت سے مسکراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس سحر انگیز مسکراہٹ اور سادگی پر میچ کے کمنٹیٹر بھی خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے خاتون کے شرمیلے انداز اور دلفریب مسکراہٹ کو دنیا کی بہترین خوبصورتی قرار دیا۔
ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی لوگ ان پر فریفتہ ہو گئے ہیں اور ہر کوئی ان کے حسن کی تعریفوں کے پل باندھتا نظر آرہا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر تبصروں کا سیلاب آ گیا ہے۔
کچھ صارفین نے مسلم خواتین کے حسن کا تذکرہ کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ مسلم خواتین ہمیشہ سے دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں شمار ہوتی رہی ہیں اور ان کی یہ سادگی ہی ان کا اصل حسن ہے۔
کچھ حلقوں میں اسے ایک عیسائی خاتون کی قبولِ اسلام کے بعد کے چہرے کا نور قرار دے کر بھی شیئر کیا جانے لگا ہے۔
اسی دوران کچھ افراد یہ بھی ذکر کرتے دکھائی دیے کہ کہیں یہ چہرہ اور ویڈیو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا کمال تو نہیں؟
ویڈیو کی غیر معمولی خوبصورتی اور پرفیکشن کی وجہ سے بہت سے صارفین کو یہ گمان ہونے لگا کہ یہ کوئی حقیقی خاتون نہیں بلکہ اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ایک فرضی ڈیجیٹل کریکٹر ہے۔
ایک صارف نے اپنے اس اضطراب کو ختم کرنے کے لیے ایلون مسک کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹول ’گروک‘ کو ٹیگ کر کے پوچھ ہی لیا کہ یہ خاتون کون ہیں، کس ملک سے ہیں اور کیوں ٹرینڈ کر رہی ہیں، تو ’گروک‘ نے اس کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے ان کے حقیقی ہونے کی تصدیق بھی کردی اور بتایا کہ یہ کوئی مشہور شخصیت یا انفلوئنسر نہیں ہیں، بلکہ عراق کی مقامی فٹ بال لیگ میں ’اربیل بمقابلہ النفط‘ کے میچ کے دوران اسٹیڈیم میں موجود ایک عام فین ہیں۔
گروک نے تو اسے حقیقی خاتون کریکٹر قرار دے دیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر متحرک بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف فیکٹ چیکر اور صحافی محمد زبیر نے اس ویڈیو کو جعلی قرار دیا ہے۔
اس کی دلیل کے طور پر انہوں نے ’زویا خان‘ نامی اکاؤنٹ سے ہی شیئر کی گئی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں یہی خاتون انڈین پریمئر لیگ (آئی پی ایل) کے ایک میچ میں اسٹیڈیم میں بیٹھی نظر آرہی ہیں۔
اسی طرح اس اکاؤنٹ کی فیڈ میں انہیں اسی لباس میں مختلف کھیلوں کے ایونٹس میں ملبوس دکھایا گیا ہے، جس میں کہیں وہ کسی چینل کی اسکرین پر دکھائی دے رہی ہیں تو کہیں اسٹیڈیم میں تماشائیوں میں بیٹھی نظر آرہی ہیں۔
ان ویڈیوز میں متضاد اور غیر حقیقی کیمرہ شوٹس کی وجہ سے محمد زبیر کا دعویٰ ہے کہ یہ اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز ہیں جو صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔
ایک اور اکاؤنٹ سے اسی خاتون کریکٹر کی ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے جس میں وہ بالکل اسی لباس اور ملبوس نظر خود یہ کہتی نظر آرہی ہیں کہ وہ ایک اے آئی کریکٹر ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیا ماہرین اور فیکٹ چیکرز مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر موجود وائرل مواد پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا فیکٹ چیکنگ کے لیے کسی ایک اے آئی ٹول پر بھروسہ کرنے کے بجائے کسی بھی خبر یا مواد کی تصدیق کے لیے ہمیشہ مستند نیوز ایجنسیز اور فیکٹ چیکنگ اداروں کی رپورٹس پر ہی بھروسہ کیا جانا چاہیے۔
























