کئی دہائیوں سے سائنس دانوں کی تمام تر توجہ اس بات پر رہی ہے کہ حمل اور بچے کی پیدائش ایک ماں کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔ لیکن اب تحقیق کا ایک بڑھتا ہوا سلسلہ یہ بتاتا ہے کہ بچے صرف ماں پر ہی نہیں، بلکہ اپنے باپ پر بھی گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ باپ بننا صرف ایک سماجی ذمہ داری یا کردار کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک باقاعدہ حیاتیاتی تبدیلی ہے جو مرد کے دماغ کو ایک نئے سانچے میں ڈھال دیتی ہے۔
یہ تصور کہ باپ بننے کے بعد مردوں میں حیاتیاتی تبدیلیاں آتی ہیں، بالکل نیا نہیں ہے۔ ممالیہ جانوروں پر کی گئی ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ جو نر اپنے بچوں کی پرورش میں حصہ لیتے ہیں، ان کے ہارمونز میں بھی ماؤں جیسی تبدیلیاں آتی ہیں۔ انسانوں میں اس کا پہلا ثبوت سال 2000 میں کینیڈا کے محققین نے پیش کیا، جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ بچے کی پیدائش کے بعد باپ کے ہارمونز میں واضح تبدیلیاں آتی ہیں۔ تب سے اب تک سائنس دان مسلسل یہ دیکھ رہے ہیں کہ باپ بننے والے مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون نامی ہارمون کی سطح ان مردوں کے مقابلے میں کم ہو جاتی ہے جن کے بچے نہیں ہوتے۔
اس حوالے سے ایک اہم سوال یہ تھا کہ کیا یہ تبدیلیاں صرف بچے کی پیدائش کے بعد شروع ہوتی ہیں یا اس سے پہلے؟
مشہور بین الاقوامی سائنسی جریدے “ہارمونز اینڈ بیہیویر“ میں شائع ہونے والی جدید تحقیق بتاتی ہے کہ یہ سفر بچے کی دنیا میں آمد سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔
امریکا کی ایموری یونیورسٹی میں انسانی سماجی نیورو سائنس کی لیبارٹری کے ڈائریکٹر جیمز کیرلنگ کی ایک تحقیق کے مطابق، والد کے ٹیسٹوسٹیرون اور ویزوپریسین ہارمونز کی سطح بیوی کے حمل کے دوران ہی گرنا شروع ہو جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جن مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم ہوتی ہے، وہ پیدائش کے بعد اپنے ساتھی اور بچے کی دیکھ بھال میں زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ دوسری طرف، جب باپ اپنے نومولود کو گود میں لیتے ہیں یا ان کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، تو ان میں آکسیٹوسن نامی ہارمون بڑھ جاتا ہے، جسے محبت کا ہارمون بھی کہا جاتا ہے۔ بچے کے ساتھ کھیلنا، اسے سینے سے لگانا اور پہلی بار گود میں اٹھانا اس ہارمون کو متحرک کرتا ہے، جو باپ اور بچے کے درمیان جذباتی رشتے کو مضبوط بناتا ہے۔

سائنس دان اب یہ بھی دریافت کر رہے ہیں کہ ان ہارمونل تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ دماغ کے اندر مادی تبدیلیاں بھی ہوتی ہیں۔
یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا اور اسپین کے ایک تحقیقی ادارے نے پہلی بار باپ بننے والے چالیس مردوں کے دماغ کے اسکین کیے۔ یہ اسکین ان کی پارٹنر کے حمل کے دوران اور پھر بچے کی پیدائش کے چھ ماہ بعد کیے گئے۔
تحقیق میں دیکھا گیا کہ دماغ کے ان حصوں میں واضح تبدیلیاں آئیں جو دیکھنے، توجہ دینے اور دوسروں کے احساسات کو سمجھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں ان مردوں میں بالکل نہیں دیکھی گئیں جو باپ نہیں بنے تھے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلیاں باپ کو اپنے بچے کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل بناتی ہیں۔ اسی طرح جرمن محققین کی ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ پیدائش کے بعد پہلے چوبیس ہفتوں کے دوران دماغ کے گرے میٹر یعنی سرمئی مادے کے حجم میں کمی آتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق یہ تبدیلی دراصل دماغ کی اس صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے جہاں وہ خود کو والدین کی نئی ذمہ داریوں کے مطابق ڈھالتا ہے۔

دماغ کا ایک اہم حصہ جو جذبات کو کنٹرول کرتا ہے، دیگر حصوں کے ساتھ اپنے رابطے مضبوط کر لیتا ہے، جس سے باپ کے اندر بچے کی حفاظت کا احساس اور مستعد ہونا بڑھ جاتا ہے۔ عملی طور پر یہ اعصابی تبدیلیاں منصوبہ بندی کرنے، مسائل حل کرنے اور بچے کی ضروریات کے لیے ہمہ وقت بیدار رہنے کی صلاحیت کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔
ریسرچرز کا کہنا ہے کہ ایک باپ کا دماغ تجربات سے شکل اختیار کرتا ہے۔ جیسے جیسے ایک باپ بچے کو کھانا کھلانے، اس کے ساتھ کھیلنے اور اسے سلانے میں وقت گزارتا ہے، اس کے دماغ کے وہ حصے جو دیکھ بھال سے وابستہ ہیں، مزید مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ یعنی پدرانہ حیثیت یا مقام خود ایک ایسا عمل ہے جو باپ کے دماغ کو تیار کرتا ہے۔

سائنسی شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ جن بچوں کی پرورش میں ان کے باپ خوشی سے سرگرم ہوتے ہیں، ان کی جسمانی صحت، ذہنی کارکردگی اور جذباتی صحت زیادہ بہتر ہوتی ہے۔
محققین کے مطابق باپ بننا کوئی ایسی طے شدہ جبلت نہیں ہے جو پیدائش کے وقت خود بخود متحرک ہو جائے۔ اس کے برعکس، یہ بچے کے ساتھ بار بار کے رابطے اور وقت گزارنے سے پروان چڑھتی ہے۔ بچے کو جھولا جھلانا، اس کے ڈائپر بدلنا یا اس کے رونے پر اسے چپ کرانا صرف یادیں ہی نہیں بناتا، بلکہ یہ باپ کے دماغ کی اندرونی ساخت کو تبدیل کر رہا ہوتا ہے۔
























