پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اور منجھے ہوئے اداکار وسیم عباس کا یوٹیوبر رجب بٹ اور اداکار فہد مصطفیٰ کے درمیان ہونے والے تنازع پر دیا گیا بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ مداح ان کے متوازن مؤقف کو سراہتے ہوئے اسے حقیقت پر مبنی اور غیر جانبدارانہ قرار دے رہے ہیں۔
وسیم عباس نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں ان سے فہد مصطفیٰ اور رجب بٹ کے درمیان ہونے والی لفظی جنگ کے بارے میں سوال کیا گیا۔
یاد رہے کہ فہد مصطفیٰ نے فیملی وی لاگرز سے متعلق ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ”فیملی وی لاگرز اپنے خاندان کو بیچتے ہیں.“ اس بیان کے بعد معروف یوٹیوبر رجب بٹ نے فہد مصطفیٰ کو سخت الفاظ میں جواب دیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے پر طویل بحث جاری ہے۔
انٹرویو کے دوران جب وسیم عباس سے پوچھا گیا کہ فہد مصطفیٰ نے فیملی ویلاگرز کے بارے میں یہ تبصرہ کیا تھا کہ وہ اپنی فیملی کو بیچتے ہیں اور اس کی تشہیر کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں رجب بٹ نے سخت ردعمل دیا تھا کہ فہد مصطفیٰ کو کون جانتا ہے؟ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، تو وسیم عباس نے بڑی صاف گوئی سے اپنا موقف سامنے رکھا۔
وسیم عباس نے کہا، “رجب بٹ کو کون جانتا ہے؟ فہد مصطفیٰ پاکستان کے سب سے بڑے ہیرو ہیں اوران کی کامیابی کی کہانی کسی سے چھپی نہیں ہے۔
وسیم عباس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگررجب بٹ فہد مصطفیٰ کو نہیں جانتے تو وہ شاید کسی جنگل میں رہتے ہوں گے۔
وسیم عباس نے یہاں تک کہا کہ میں نے آج تک رجب بٹ کی کوئی ویڈیو یا کلپ نہیں دیکھا۔ وہ فہد مصطفیٰ کے بارے میں بات کر رہے ہیں جنہیں اپنے گیم شو کی وجہ سے پورا پاکستان جانتا ہے، یہی نہیں انکے کامیاب ڈراموں اور فلموں کی ایک لمبی فہرست ہے وہ واقعی ایک سپر ہیرو ہیں۔
ساتھ ہی وسیم عباس نے اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا کہ رجب بٹ یوٹیوب کی دنیا میں ضرور ایک بڑا نام ہوں گے اور وہ اس بات سے انکار نہیں کرتے۔ تاہم، انہوں نے معاملے کے دونوں پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فہد مصطفیٰ کو بھی یہ نہیں کہنا چاہیے تھا کہ فیملی ویلاگرز اپنی فیملی بیچتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے رجب بٹ کو مشورہ دیا کہ اگر فہد مصطفیٰ نے ایسی بات کی بھی تھی، تو رجب بٹ کو اس کا جواب نرم لہجے میں دینا چاہیے تھا نہ کہ تلخ انداز میں۔
وسیم عباس کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر کافی سراہا جا رہا ہے۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ وسیم عباس نے سچ کہا ہے اور دونوں طرف کا خیال رکھتے ہوئے ایک بہت ہی سمجھداری اور توازن والی بات کی ہے، جس کی تعریف کی جانی چاہیے۔
























