دنیا بھر میں مقبول جنوبی کورین میوزک بینڈ بی ٹی ایس نے آئندہ سال ہونے والے عالمی شہرت یافتہ گریمی ایوارڈز میں اپنا کوئی بھی گانا نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایوارڈ انتظامیہ نے 2027 کی تقریب میں پہلی بار ایشیائی پاپ موسیقی کے لیے ایک الگ کیٹیگری شامل کرنے کا اعلان کیا۔

سی این این میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بی ٹی ایس کے تمام سات اراکین نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس سال گریمی ایوارڈز کے لیے اپنی موسیقی نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ موسیقی کو کسی علاقے یا زبان کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بجائے اس کی اصل روح کے مطابق پسند کیا جائے گا۔

2010 میں بننے والے اس بینڈ نے گزشتہ کئی برسوں میں دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی ہے اور کئی بڑے بین الاقوامی اعزازت اپنے نام کیے ہیں۔

گروپ نے 2017 سے 2021 کے درمیان مسلسل پانچ مرتبہ بل بورڈ میوزک ایوارڈز میں ”ٹاپ سوشل آرٹسٹ“ کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اس کے علاوہ 2021 اور 2026 میں انہیں امریکن میوزک ایوارڈز میں ”آرٹسٹ آف دی ایئر“ قرار دیا گیا، جبکہ 2022 میں وہ بل بورڈ میوزک ایوارڈز کی تاریخ کا سب سے زیادہ ایوارڈز جیتنے والا گروپ بن گیا۔

بی ٹی ایس کے گانے کورین زبان میں ہونے کے باوجود دنیا بھر میں شوق سے سنے جاتے ہیں اور حال ہی میں چار سال کے وقفے کے بعد سامنے آنے والے ان کے نئے البم ’اری رنگ‘ نے بھی عالمی سطح پر مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔

کوریائی زبان کا یہ البم رواں سال مارچ میں ریلیز ہوا تھا، جس نے بل بورڈ 200 چارٹ پر پہلے نمبر پر آغاز کیا اور برطانیہ، جرمنی اور جاپان سمیت 23 ممالک میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی۔

بینڈ کے اس فیصلے پر ان کے مداحوں کی بڑی تعداد ان کی حمایت کر رہی ہے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گریمی ایوارڈز میں جغرافیائی بنیادوں پر نیا ایوارڈ بنانا ایشیائی فنکاروں کو مرکزی اور اہم ایوارڈز سے دور رکھنے کی ایک کوشش ہے۔

دوسری جانب گریمی ایوارڈز کے قواعد کے مطابق کسی بھی گانے کو ایک ہی سال میں صرف ایک پرفارمنس کیٹیگری میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بی ٹی ایس کسی گانے کو ”بہترین ایشیائی پاپ میوزک پرفارمنس“ کے لیے جمع کرواتے، تو وہی گانا ”بہترین پاپ جوڑی یا گروپ پرفارمنس“ کی کیٹیگری میں شامل نہیں ہو سکتا تھا، جس کے لیے وہ 2021 اور 2022 میں نامزد ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ بی ٹی ایس نے چار سال کے وقفے کے بعد رواں برس دوبارہ موسیقی کی دنیا میں واپسی کی تھی۔ گروپ کے تمام سات اراکین نے جنوبی کوریا کی لازمی فوجی سروس مکمل کرنے کے بعد دوبارہ ایک ساتھ کام شروع کیا، جس کا مداح بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔

بینڈ کے مداحوں کا ماننا ہے کہ الگ کیٹیگریز نئے یا کم مشہور فنکاروں کے لیے تو اچھی ہو سکتی ہیں، لیکن بی ٹی ایس اس مرحلے سے کہیں آگے نکل چکا ہے اور ان کا یہ بائیکاٹ بالکل درست اقدام ہے۔

More

Comments
1000 characters