پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی شہر کے خراب انفراسٹرکچر اور سڑکوں کی خستہ حالی نے انہیں یہ شہر چھوڑنے پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ برسوں سے جاری تعمیراتی کام اور بھاری سرمایہ کاری کے باوجود کراچی کی سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی حالت میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔
سابق قومی کرکٹر فواد عالم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں شاہد آفریدی نے کراچی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا، جبکہ ساتھ ہی انہوں نے کراچی کے لوگوں کی محبت اور کرکٹ سے ان کے لگاؤ کی تعریف بھی کی۔
شاہد آفریدی نے کراچی کے عوام کی تعریف کرتے ہوئے کہا،کراچی کے لوگ بہت زبردست ہیں اور اس شہر نے مجھے بہت کچھ دیا ہے، لیکن جب میں کئی سال بعد واپس آتا ہوں تو بہتر سڑکوں اور بہتر حالات کی امید کرتا ہوں لیکن مجھے شرمندگی ہوتی ہے۔
شاہد آفریدی نے شہر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ سن کر دکھ ہوتا ہے کہ لوگ جسے پیرس بنانے کی باتیں کرتے تھے، اب وہ کورنگی اور یونیورسٹی روڈ جیسے علاقے بن چکے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہاں کتنے عرصے سے تعمیراتی کام چل رہا ہے اور یہ تعمیراتی کام آخر کب مکمل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی چھوڑنے کا فیصلہ ان کے لیے انتہائی مشکل تھا ان کا ماننا ہے کہ جس شہر میں انسان بڑا ہوا ہو اسے چھوڑنا ایک مشکل فیصلہ تھا۔ لیکن اسلام آباد کا بنیادی ڈھانچہ بہتر ہے اور وہاں سے موٹروے کے ذریعے خیبر پختونخوا اور لاہور تک آسان رسائی بھی ایک بڑی سہولت ہے۔
انہوں نے کراچی میں بڑی سرمایہ کاری اور طویل عرصے سے جاری کاموں کے باوجود سڑکوں کی خراب حالت پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق، ”پراپرٹی کے منصوبوں پر بہت پیسہ خرچ ہو رہا ہے اور برسوں سے تعمیرات جاری ہیں، لیکن سڑکوں کی حالت اب بھی اچھی نہیں۔“
تاہم انہوں نے بعض ترقیاتی منصوبوں کو سراہتے ہوئے شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ”میں مانتا ہوں کہ کچھ اچھا کام بھی ہوا ہے، خاص طور پر شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے ایک مثبت منصوبہ ہے، لیکن کراچی ایک بہت بڑا شہر ہے اور صرف ایک یا دو منصوبے عوام کی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔“
شاہد آفریدی نے اپنے بچپن اور کرکٹ کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کرکٹ کا بے حد جنون تھا۔ ”ہمارے محلے میں دن بھر کرکٹ کھیلی جاتی تھی۔ میں نے ابتدا فاسٹ بولر کے طور پر کی اور بعد میں اسپن بولنگ کی طرف آیا۔“
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں کلب کرکٹ کا معیار بہت بلند تھا اور میچز دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ آتے تھے۔ بقول ان کے“اس زمانے میں کسی بڑے کلب میں جگہ بنانا ایک اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ یہی وہ ماحول تھا جس نے مجھے کرکٹ سے جوڑ دیا۔“
























