معروف بھارتی اداکار سہیل خان کی ایک ریئلٹی شو میں حال ہی میں سامنے آنے والی نئی جھلک نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ان کے چہرے کی بدلتی ہوئی ساخت دیکھ کر عوامی حلقوں میں مختلف افواہیں گردش کرنے لگیں، جن میں یہ قیاس آرائیاں بھی شامل تھیں کہ شاید انہوں نے وزن گھٹانے والی اوزیمپک ادویات کا استعمال کیا ہے۔

ان کے چہرے میں نمایاں تبدیلی کے بعد یہ سوال اٹھنے لگا کہ آخر ان کے چہرے کی ساخت اتنی مختلف کیوں دکھائی دے رہی ہے، تاہم سہیل خان نے خود ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ان کی ظاہری تبدیلی کسی وزن کم کرنے والی دوا کے استعمال کا نتیجہ نہیں بلکہ پیٹ کی ایک بیماری کے باعث ان کا وزن تیزی سے کم ہوا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے وزن میں اچانک کمی کے نتیجے میں ان کے چہرے کی چربی بھی کم ہوئی، جس کی وجہ سے چہرے کی ساخت پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمایاں اور قدرے کھوکھلی دکھائی دینے لگی۔

طبی ماہرین اور جدید سائنسی تحقیق اس سلسلے میں بتاتی ہے کہ جب کوئی شخص اپنا وزن تیزی سے کم کرتا ہے تو اس کا اثر چہرے پر سب سے پہلے ظاہر ہوتا ہے۔

چہرے کی جلد کے نیچے مختلف حصوں جیسے کہ گالوں، کنپٹیوں اور جبڑے کے پاس چربی کی چھوٹی چھوٹی تہہ موجود ہوتی ہے۔ جب جسمانی وزن گھٹتا ہے تو یہ چربی گھلنے لگتی ہے، جس سے چہرے کا درمیانی حصہ بیٹھ جاتا ہے، گال اندر کی طرف دھنس جاتے ہیں اور کنپٹیوں کا حصہ گہرا نظر آنے لگتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کل وزن کا محض پانچ سے دس فیصد کم ہونا بھی چہرے کی رنگت اور ساخت میں نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے، جبکہ دس فیصد سے زیادہ وزن کم ہونے پر یہ تبدیلیاں مزید واضح ہو جاتی ہیں۔

تیزی سے وزن کم ہونے کی صورت میں ایک اہم مسئلہ یہ پیش آتا ہے کہ جلد کو خود کو سمیٹنے کا کافی وقت نہیں ملتا۔ چربی ختم ہونے کے بعد جلد کا ڈھیلا پن بڑھ جاتا ہے، جس سے چہرے کی جھریاں اور لکیریں زیادہ نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات تیزی سے وزن گھٹانے والے افراد اپنی عمر سے زیادہ بڑے نظر آنے لگتے ہیں۔

اگرچہ آج کل اس عمل کو اوزیمپک فیس کا نام دیا جا رہا ہے، لیکن طبی سائنس کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلی کسی بھی وجہ سے ہونے والی تیز رفتار وزن کی کمی کا قدرتی نتیجہ ہوتی ہے، چاہے وہ بیماری کی وجہ سے ہو یا شدید ڈائٹنگ سے۔

طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ چہرے کی شادابی اور قدرتی بناوٹ کو برقرار رکھنے کے لیے وزن ہمیشہ آہستہ آہستہ اور تدریجی انداز میں کم کرنا چاہیے۔

وزن کم کرنے کے عرصے میں غذا میں پروٹین کی مناسب مقدار شامل کرنا، جسم کو زبردست طریقے سے ہائیڈریٹ رکھنا یعنی پانی کا زیادہ استعمال، بھرپور نیند اور ہلکی ورزشیں کرنا نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس طرح نہ صرف انسان جسمانی طور پر صحت مند رہتا ہے بلکہ چہرے کی قدرتی چمک اور والیوم بھی محفوظ رہتا ہے۔

More

Comments
1000 characters